خدا کی وحدت کا تصور خداکے احترام کا لازمی حصہ ہے، منو بھائی

خدا کی وحدت کا تصور خداکے احترام کا لازمی حصہ ہے، منو بھائی
ہمارے دوست اور ممتاز لسانی محقق، ادیب اور شاعر جناب محیط اسماعیل کا کہنا ہے کہ جو لوگ ازراہ عقیدت و احترام یہ لکھتے یا کہتے سنائی دیتے ہیں کہ’’خدا فرماتے ہیں‘‘ وہ خدائے واحد و لاشریک کی وحدت کے تصور کو متاثر کرسکتے ہیں۔ خدا کے لئے جمع کا صیغہ استعمال کرنے سے ایک سے زیادہ ہندومت کی طرح بہت سارے خدائوں کا تاثر بھی مل سکتا ہے جو خدا کی وحدت اور وحدانیت کے تصور کے حق میں نہیں جاتا۔ محیط اسماعیل کے خیال میں اس سازش یا بدعت کے پیچھے یہودیوں کی کارستانی کام کرتی دکھائی دیتی ہے۔یہودیوں کی کارستانی تک رسائی حاصل کرنے سے پہلے یہ دیکھ لینا بھی ضرور ی ہوگا کہ ہماری اپنی بے وقوفی یا جہالت بھی تو ہوسکتی ہے جو خدائے واحد کے احترام کے جذبے کے تحت جمع کا صیغہ استعمال کرنے کی مرتکب ہورہی ہے۔ اسرائیل تک جانے سے پہلے ہمیں اپنی چارپائی کے نیچے ڈنگوری ضرور پھیر لینی چاہئے۔ کئی بار ہوا یہ کہ؎میں الزام ان کو دیتا تھاقصور اپنا نکل آیااداکاری کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر احترام یا عقیدت کے اظہار میں کچھ زیادہ اضافہ کیا جائے یا اسے دو یا تین سے ضرب دے دی جائے تو وہ قدرتی اداکاری کی بجائے مزاح یا طنز کی صورت اختیار کرسکتی ہے اور اگر چار سے ضرب دے دی جائے تو وہ’’فارس‘‘ بن جاتی ہے یعنی غیر قدرتی ہوجاتی ہے۔محیط اسماعیل کا شمار اردو زبان کی املا، تحریر، بیانہ کے مستند ماہرین میں ہوتا ہے۔ وہ شاعر اور خاکہ نگار بھی ہیں اور اردو کی ایک جدید ڈگشنری کی ترتیب و تالیف میں بھی مصروف ہیں۔ روزمرہ اور بامحاورہ زبان و بیان کے بارے میں ایک مخصوص و منفرد رویہ اور پالیسی رکھتے اور استعمال کرتے ہیں۔حالیہ سالوں میں پاکستان کے ذرائع ابلاغ یا انفارمیشن ٹیکنالوجی میں زبردست انقلاب آیا ہے اس میں زبان و بیان کی ترقی کے ساتھ’’میڈیا‘‘ میں داخل ہونے والی کچھ بے جا بے تکلفی یا گستاخی بھی دیکھنے اور سننے میں آتی ہے جس کو محیط اسماعیل جیسے لوگ کچھ ز یادہ محسوس کرسکتے ہیں اور اگر ان کی لسانی حسیات کو مثبت انداز میں استعمال کیا جائے تو زبان و بیان کی گستاخیاں دور کی جاسکتی ہیں اور شستہ، آسان فہم، سادہ اور محتاط ذرائع ابلاغ کو تقویت مل سکتی ہے اور بہت ساری نادانستہ حماقتوں یا غلطیوں سے نجات پائی جاسکتی ہے۔نصف صدی پہلے جب ہم لوگ صحافت کے میدان میں داخل ہوئے تھے اخبارات اور نشریاتی ادارے کی زبان کو ایک’’سند‘‘ کی حیثیت حاصل تھی اور زبان و بیان کے حق میں ان اداروں کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ یہ حوالہ اب بھی دیا جاتا ہے مگر زبان و بیان کے حق میں ز بان و بیان کے اصولوں اور ضابطوں کے خلاف ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آپ نے یہ کسی اخبار میں پڑھایا ریڈیو میں سنا ہوگا۔ محیط اسماعیل جیسے لوگوں کے لئے یہ بہت دکھ دینے والی بات ہے اورترقیمعکوس کی دلیل ہے جس سے نجات پانے کی ضرورت ہے۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں