خبریت سے لبریز ہفتہ رفتہ..ڈاکٹر مجاہد منصوری

خبریت سے لبریز ہفتہ رفتہ..ڈاکٹر مجاہد منصوری
حالات حاضرہ کے خبری سیلاب رواں سے روزانہ ’’رائے عامہ کی تشکیل و رہنمائی‘‘ کے ارفع صحافتی مقصد کو پورا کرنے کے لئے ملکی و عوامی مفاد و دلچسپی پر مبنی اہم اور حساس خبری موضوعات کا انتخاب خبروں کی فراہمی جتنا بلکہ اس سے بھی زیادہ اہم ہوگیا ہے۔ میڈیا کا قیمتی ترین وقت اور جگہ لے کر، سیاسی و اقتصادی کالم نویس اور ٹاک شوز کے تجزیہ نگار اور مبصریہ اہم ذمہ داری ایسے نبھاتے ہیں کہ بالعموم اہم خبری موضوعات کور ہوہی جاتے ہیں، پھر بھی کچھ اپنی خبریت کے اعتبار سے ایڈریس نہیں ہوپاتے۔ معیاری اور ذمہ دارانہ صحافت کا تقاضا ہے کہ وسیع تر ملکی ضرورت اور عوامی دلچسپی کے حامل زیادہ سےزیادہ خبریت کے ناصرف سب موضوع کور ہوں بلکہ تیز تر رائے سازی کے لئے ان میں تواتر ہو اور یہ معیاری ہوں۔
کسی ہفتے ،عشرے یا مہینے میں قومی و ملکی نقطہ نظر سے اہم ترین اور حساس خبروں کا ایسا ریلا آتا ہے کہ ان سب کو مطلوبہ رائے سازی کے لئے کور کرنا بڑا پیشہ ورانہ چیلنج بن جاتا ہے(کہ میڈیا کا وقت اور جگہ تو مقررہ اور محدود ہی رہتی ہے) خصوصاً ان کالم نویسوں ، تجزیہ نگاروں اور اینکرز اور پروڈیوسروں کے لئے جن کے کالم یا ٹاک شوز کی فری کوئنسی کم ہے۔ پاکستان میں رواں ہفتہ (20تا26جون) اور آنے والے بھی ایسے ہی نظر آرہے ہیں۔ پی ٹی آئی اور پی پی کی طرف سے وزیر اعظم اور ان کی حکمراں فیملی کے احتساب کے لئے قانونی جدوجہد کا آغاز، کراچی میں بڑی حد تک بحالی امن کے جاری عمل میں، ملک کو ہلا کر رکھ دینے والی بدامنی کی لہر، بھارت کو نیو کلیئر سپلائی گروپ میں شامل کرانے کی امریکی و بھارتی کوشش کی ناکامی اور برطانوی ریفرنڈم میں ملک کی یورپی یونین سے علیحدگی، ہفتہ رواں کے چاروں موضوعات پاکستان کے لئے اہم ترین ہیں۔
پاناما لیکس کے تناظر میں وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی فیملی کے احتساب کے ناگزیر احتساب کے لئے قوم اور سپریم کورٹ کی خواہش اور ضرورت کے مطابق ٹی او آرز کی تیاری میں پارلیمانی کمیٹی کی ناکامی کے بعد عمران خان اور پی پی کے رہنمائوں نے ملزم حکمرانوں کے خلاف قانونی جدوجہد کا اعلان ہی نہیں عملاً آغاز کردیا ہے۔ اب اپوزیشن راہ راست پر آکر سرخرو ہے۔ اس نے حکومتی رویے اور اس کے حواری وزراء کے اپوزیشن رہنمائوں خصوصاً عمران خان کے خلاف بلاجواز ایک مہلک(خود ن لیگ کے لئے) اور مسلسل ایسی پروپیگنڈہ مہم شروع کی جس کا جواب عمران خان کی طرف سے تو رائے ونڈ پر دھرنا اور سڑکوں پر آنے کے بیانات سے آتا رہا۔ بتدریج پی پی بھی اس طرف آتی معلوم دی۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ عمران خان سمیت پوری اپوزیشن نے مکمل جمہوری جذبے اور باوقار طریقے سے پارلیمانی پارٹی کے حکومتی دھڑے کو بھرپور موقع دیا کہ وہ احتساب کے عمل کو مختصر ترین ا ور موثر رکھنے کے لئے صرف7سوالات کے جوابوں کے کمیشن سے قانونی تجزیے و تشریح اور فیصلے تک ہی اپنے مطالبے کو محدود رکھے لیکن حکومت کی طرف سے اپوزیشن کے واحد مطالبے کہ’’احتساب کا آغاز وزیر اعظم سے‘‘ کی ممکنہ مزاحمت ہوئی۔ اپوزیشن یوں بھی باوقار ثابت ہوئی کہ تحریک انصاف اور دیگر جماعتوں نے وزیر اعظم نواز شریف کی خرابی صحت اور ان کی ملک سے طویل عدم موجودگی کا کوئی غلط فائدہ نہیں اٹھایا اور آئینی بالادستی کے تقاضوں کے عین مطابق پارلیمانی عمل سے ہی مسئلے کو سلجھانے کے لئے کوشاں رہی بلکہ ارفع جمہوری اور انسانی اقدار کی پیروی میں وزیر اعظم صاحب کی جلد صحتیابی کے دعائیہ اظہار سے بخوبی واضح کیا کہ اپوزیشن کے کسی بھی لیڈر یا جماعت کا ان سے کوئی ذاتی بغض نہیں ہے۔ اپوزیشن کی دوسری اہم کامیابی بہتر اور ہوش مندانہ رویے کی صورت میں ہے کہ اس نے پارلیمانی کمیٹی کی ناکامی کے بعد یک دم سڑکوں پر آنے اور دھرنے لگانے کی بجائے ،تحریک انصاف اور پی پی نے گزشتہ روز الیکشن کمیشن میں وزیر اعظم اور ان کے حکمراں اہل خانہ کے خلاف نااہلیت کا ریفرنس الیکشن کمیشن میں دائر کردیا۔ حکومت نے کمیشن کی تکمیل کا بہانہ بنا کر ٹال مٹول کا رویہ جاری رکھا تو یہ اس کو مہنگا پڑے گا اور اپوزیشن مزید سرخرو ہوگی کہ بڑے ہوش سے اس نے اپنے درست راستے کا تعین کرلیا ہے۔ بال اب ریاستی اداروں الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ کے کورٹ میں آگئی ہے۔ اپوزیشن آئین کی بالا دستی اور صحت مند جمہوری سیاست کے تمام تقاضے پوری کرتی معلوم دیتی ہے۔ عمران خان کے اسمبلی فورم پر سوال اٹھانے سے لے کر پارلیمانی کمیٹی کے ساتھ انگیج رہنے اور اب ریفرنس دائر کرنے تک اپوزیشن نے خود کو سنبھالا ہوا ہے اور حکومت کی بوکھلاہٹ بڑھ رہی ہے۔ وہ نہیں سمجھ پارہی کہ اس کا مطلوب احتساب ناگزیر ہے۔
ہفتہ جاریہ میں سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے بیرسٹر صاحبزادے اویس شاہ کے دن ہاڑے اغوا، ہردلعزیز قوال امجد صابری کی شہادت اور ایک محدود وقت میں کراچی کے صنعتی علاقے میں تین فیکٹریوں میں بے قابو آتشزدگی نے پوری قوم کو گہری تشویش اور صدمے سے دو چار کردیا ہے۔ اویس شاہ کا اغوا پورے ملکی نظام انصاف و قانون(جو پہلے ہی اپنی ڈلیوری کے حوالے سے عوام کے اذہان میں سوالیہ نشان بنا ہوا ہے) کو مزید ہلا کر رکھ دیا ہے۔ امجد صابری صرف قوال نہیں تھا، وہ عاشق رسولؐ اور اپنی اسی حیثیت میں ایک ارفع انسان تھا جو’’بڑا‘‘ ہو کر بھی برسوں سے اپنے متوسط و غریب محلے اور شہر میں ہمدردی ، خوشیاں اور تعاون بانٹ رہا تھا۔ اس نے کسی امیر بستی میں جانا گوارا نہیں کیا۔ اس کی شخصیت اور فن کی حقیقت اس کی شہادت پر پاکستان بھر کے گھروں میں بزرگوں بچوں اور مرد و خواتین کے بہتے آنسوئوں سے آشکار ہوئی۔ گزشتہ روز کراچی میں جس طرح ایک ہی دن نہیں، چند گھنٹے میں تین فیکٹریوں کو آگ لگی،ماتھے ٹھنک گئے کہ پاکستان کا دشمن کراچی پر اپنی دم توڑتی برسوں کی دہشت کے خلاف آخری مزاحمت پر آگیا ہے؟ یا یہ اس نے دوبارہ منظم ہو کر ، سرحدوں کے اس پار سے حاصل کمک سے کراچی پر نئی طرز کا حملہ کیا ہے؟ یا وہ ابھی اتنا کمزور نہیں ہوا جتنا ہم سمجھ بیٹھے تھے بلکہ رمضان المبارک میں ملک بھر کو ہلاکر رکھ دینے والے اس حملے سے وہ اپنے وجود کا احساس دلارہا ہے؟ وطن کے غم میں مبتلا اہل فکر ان ہی سوالوں کا جواب سوچیں اور روکنے کاراستہ بھی، گورننس تو کھوکھلی ،نحیف و ضعیف ، کرپٹ اور عوام کے غم سے بے نیاز ہے، سوائے اپنے تعیش اور تحفظ کےاس کو اور کوئی فکر نہیں۔
گزشتہ ماہ جب مودی کے دورہ امریکہ میں بھارتی وزیر اعظم کے اپنے دورے میں بہت کچھ سمیٹنے اور اس کی پاکستان مخالف کامیاب عالمی محاذ آرائی کی خبریں پوری دنیا، بھارت اور پاکستان میں نشر وشائع ہورہی تھیں، بھارت بے پناہ شاد اور پاکستان تشویش میں مبتلا ہورہا تھا،’’آئین نو‘‘ میں پاکستانیوں کو یقین دلانے کی کوشش کی گئی کہ’’مودی ریت میں مچھلی تلاش کررہا ہے‘‘ شکر الحمد للہ، امریکہ کی مودی کو سب سے بڑی یقین دہانی کہ بھارت کو ہر پابندی اور مخالفت سے آزاد کرکے جلد’’نیوکلیئر سپلائی گروپ‘‘ میں داخل کردیا جائے گا ،لغو ثابت ہوئی، چین ہی نہیں سویڈن، آسٹریا، ترکی، نیوزی لینڈ سمیت سات ملکوں نے بھارت کو گروپ میں آنے سے روک دیا کہ گروپ کا تو قیام ہی1974میں بلا جواز بھارتی ایٹمی تجربے کا عالمی ردعمل تھا۔ یہ بھی درست نہیں ہے کہ مودی نے پاکستان کے دو ہمسایے جیب میں ڈال لئے ہیں، اس سے تو اس کا بیچارا مجبور و بے کس ہمسایہ نیپال نہیں سنبھل رہا، جہاں مودی کی داخلی سیاست میں کھلی مداخلت کے بعد کمیونسٹ حکومت تبدیل ہوسکی نہ نیپال کی تجارتی ناکہ بندی کا حربہ کامیاب ہوا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا چین اور پاکستان کارنر کئے نیپال کی ڈھارس کا کوئی ساماں کرسکتے ہیں؟
برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی اصل میں(اپنے نتائج کے اعتبار سے) یورپی یونین کی برطانیہ سے علیحدگی ہے۔ یہ خبر صرف یورپ کے لئے نہیں پوری دنیا کے لئے دھماکہ خیز ہے۔ علیحدگی نے بڑا سوال یہ پیدا کردیا ہے کہ کیا اب یونین برقرار رہے گی؟ اور یہ کہ اس کے پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ اس پر اگلا’’آئین نو‘‘ مفصل ہوگا تاہم یہ سمجھ لیا جائے کہ عالمی سیاست کی کایا پلٹتی معلوم دے رہی ہے، پاکستان کو عارضی نقصانات مختلف نوعیت کے ضرور ہوں گے، لانگ ٹرم میں نئی صف بندی میں ہماری بے پناہ بگڑی لیکن سنبھلتی ’’اسلامی جمہوریہ‘‘ نئی صف بندی کی بینی فشری ہی نہیں ایکٹوایکٹر ہوگی۔ پاکستان کو چاہئے کہ برطانوی اور ایسے دوسرے ریفرنڈمز کو’’حق خود ارادیت‘‘ سے منسوب کرکے کشمیریوں کو حق خودارادیت دلانے کے لئے مودی کی مکارانہ علاقائی سیاست کا توڑ کرے۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں