حکومت اربوں خرچ کرکے مقبولیت کے جھوٹے دعوے کر رہی ہے،اپوزیشن ارکان اسمبلی

حکومت عوام میں جائے تو اسے مقبولیت کا اندازہ ہوجائیگا، تین سالسے صحت تعلیم اورعوامی مفاد نظر انداز کرکے سڑکوں کے پراجیکٹس میں کمیشن کھایا گیا وہ سب کے سامنے ہے
پانامہ لیکس میں حکمرانوں کے نام ہونے کی وجہ سے عوام مذید نواز شریف پر اعتبار کرنے کےلئے نہیں ہے ،سروے حکومت کی گرتی ہوئی ساکھ کو بحال نہیںکر سکتے،آن لائن سے گفتگو
#/h#
اسلام آباد (پی ایف پی) اپوزیشن کے ارکان اسمبلی نے وزیر اعظم پاکستان کی مقبولیت اور پانامہ لیکس کے حوالے سے شائع ہونے والے سروے کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ حکومت اربوں روپے خرچ کرکے اپنی مقبولیت کے جھوٹے دعوے کر رہی ہے ،حکومت عوام میں جائے تو اسے اپنی مقبولیت کا اندازہ ہوجائے گا،گذشتہ تین سالوں میں صحت تعلیم اورعوامی مفاد کے پہلووں کو نظر انداز کرکے جس طرح سے سڑکوں کے پراجیکٹس میں کمیشن کھایا گیا وہ سب کے سامنے ہے ، پانامہ لیکس میں حکمرانوں کے نام موجود ہونے کی وجہ سے عوام اب مذید نواز شریف پر اعتبار کرنے کے لئے نہیں ہے ،سروے نہ تو حکومت کی گرتی ہوئی ساکھ کو بحال کر سکتے ہے بلکہ سروے کرنے والے ادارے پر بھی شکوک و شبہات پیدا ہوجاتے ہیں ،انتخابات کے دنوں میں بھی سیاسی فائدہ حاصل کرنے کےلئے اس طرح کے سروے کئے جاتے ہیں مگر نتائج اس کے برعکس ہوتے ہیں منگل کو پارلیمنٹ کے باہر اپوزیشن کی جماعتوں کے اراکین اسمبلی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے داور کنڈی نے کہاکہ اس طرح کے سروے حکومت کی ایما پر بنائے جاتے ہیں جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے وزیر اعظم کی مقبولیت کا اندازہ ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری اور آمن و آمان کی ابتر صورتحال سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے اس لئے پاکستان تحریک انصاف اس طرح کے سروے کو نہ تو اہمیت دیتی ہے اور نہ ہی ماننے کےلئے تیار ہے پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ مری نے وزیر اعظم کی مقبولیت کے حوالے سے سروے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہاکہ اس قسم کے سروے مخصوص مفادات حاصل کرنے کے لئے تیار کئے جاتے ہیں انہوںنے کہاکہ ملک کے عوام میں وزیر اعظم کی مقبولیت واضح ہوچکی ہے موجودہ بجٹ میں جس طرح سے عوام اور سرکاری ملازمین کے ارمانون کا خون کیا گیا ہے اس سے وزیر اعظم کی مقبولیت صفر ہوچکی ہے پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی امجد خان نے کہا کہ ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی علی رضا عابدی نے کہاکہ وزیر اعظم کی مقبولیت کا اندازہ پانامہ لیکس میں ان کی موجودگی سے لگایا جا سکتا ہے اس سروے کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے حکومت نے بجٹ میں عوام کے مسائل حل کرنے کی بجائے اپنی توجہ دولت کے انبار جمع کرنے پر لگائی ہے پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیرمین اور قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر شاہ محمو د قریشی نے گیلپ سروے کو فراڈ اورجھوٹ قرار دیدیا ہے انہوںنے کہاکہ گلیلپ سروے میں حکومت کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہاکہ حکومت نے گیلپ سروے کے زریعے مخصوص مفادات حاصل کرنے شائع کیا گیا ہے انہوںنے کہاکہ گیلپ سروے میں جو سوال عوام سے پوچھنے کی ضرورت تھی وہ نہیں پوچھے گئے ہیں انہوں نے کہاکہ ملک میں عوام کی جو صورتحال ہے وہ سب کے سامنے ہے ایسے حالات میں اس قسم کے سروے حکومت یا وزیر اعظم کی مقبولیت میں کوئی اضافہ نہیں کر سکتا ہے پاکستان پیپلز پارٹی کی خاتون رکن اسمبلی شاہدہ رحمانی نے گیلپ سروے کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ اس طرح کے سروے انتخابات کے دنوں میں بھی بہت زیادہ آتے ہیں مگر انتخابات میں عوام ان سروے کو پول کھول دیتے ہیں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی مقبولیت تو پوری قوم کے سامنے ہے پانامہ لیکس کے انکشافات کے بعد وزیر اعظم اسمبلی میں پارلیمینٹرین کا سامنا نہیں کر رہے ہیں تو عوام کا سامنا کیا کریں گے انہوں نے سروے کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے اسے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے ۔پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی شہریار آفریدی نے گیلپ سروے پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ موجودہ حکومت نے میڈیا پبلسٹی کےلئے 7ارب 83کروڑ روپے مختص کئے ہیں اور ایک مخصوص میڈیا گروپ کو اس سلسلے میں نوازا جا رہا ہے انہوں نے کہاکہ گیلپ سروے کو مخصوص مقاصد حاصل کرنے کےلئے استعمال کیا گیا ہے وزیر اعظم اور حکومت کی مقبولیت کا اندازہ اس کی کارکردگی سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے اس وقت ملک کے عوام میں ناامیدی ہے پارلیمنٹ میں 80سے زیادہ لیگی اراکین نے اپنے ہی حکومت پر عدم اعتماد کیا ہے انہوں نے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف کے دھرنے کے وقت تمام اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کی صف میں کھڑے ہو گئے تھے مگر آج تمام اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف متحد ہوچکی انہو ںنے کہاکہ ملک میں آمن و آمان کی صورتحال تسلی بخش نہیں ہے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لئے حکومت کو بار بار تنبیہ کی جا رہی ہے کراچی کے حالات سب کے سامنے ہیں ایم کیو ایم کے تحفظات دور نہیں کئے جا رہے ہیںانہوںنے کہاکہ حکومت ایسے سروے کے زریعے اپنی مقبولیت میں اضافہ نہیں کر سکتی ہے بلکہ عوام کی نظروں میں ایسے اداروں کی کارکردگی بھی مشکوک ہو جاتی ہے جماعت اسلامی کی خاتون رکن اسمبلی عائشہ سید نے کہا کہ گیلپ سروے سے موجودہ حکومت اپنے مقاصد پورے نہیں کر سکتی ہے عوام حکومت کی ناقص کارکردگی سے بخوبی اگاہ ہیں انہوں نے کہاکہ پانامہ لیکس کے انکشافات کے بعد وزیر اعظم کی شخصیت متنازعہ ہو چکی ہے اور وزیر اعظم کا میڈیا ونگ حکومت کی گرتی ہوئی ساکھ کو سنبھالا دینے کےلئے تنکے کا سہارا لینے کی کوشش کر رہے ہیں پاکستان تحریک انصاف کے رکن اسمبلی علی محمد خان نے کہاکہ گیلپ سروے والوں کو ملک کے پسماندہ علاقوں میں حکومت کی کارکردگی اور وزیر اعظم پر اعتماد کا سروے کرائیں تاکہ انہیں اصل حقیقت کا ادراک ہو سکے انہوں نے کہاکہ اس طرح کے سروے کرنے سے ان اداروں کی ساکھ بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے ۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں