جدت پسندی میں پاکستان کا شمار۔۔۔۔؟

دنیا بھر کے ترقی یافتہ اور ترقی پزیر ممالک میں نئی ٹیکنالوجی اور جدید مہارتوں کو اپنانے کا رجحان دیگر ممالک اور معاشروں کے مقابلے میں قدرے زیادہ ہوتا ہے،وقت اور زمانے کے تقاضوں ساتھ چلنے اور ڈھلنے والے معاشرے ہی دنیا میں قائم رہتے ہیں۔

اسی سلسلے میںگزشتہ ماہ ایک رپورٹ جاری کی گئی جس کے مطابق پاکستان کا شمار ایسے ممالک میں ہوتا ہے جو جدت کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ گئے۔

کورنیل یونیورسٹی ، انسیڈ اور دی ورلڈ انٹی لیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن کی مشترکہ کوششوں سے شائع ہونے والے گلوبل انوویشن انڈیکس 2016کے مطابق پاکستان جدیدیت میںپیچھے رہ چکا ہے،دنیا کے128 ممالک میں اس کا نمبر119 ہےجبکہ سوئٹزرلینڈ چھٹی بار بھی سر فہرست ہے ۔

اس سروے کا مقصد،دنیا بھر کے ممالک کی جدت طرازی کی صلاحیتوں اور دنیا کی معیشتوں کے نتائج کی سالانہ درجہ بندی کرنا ہے۔

اگرچہ گزشتہ برس کے مقابلے ملک کی رینکنگ131 سے بہتر ہوکر رواں سال119 پر آگئی ہے۔تاہم خطے کے دوسرے ممالک سے ابھی بھی کافی پیچھے ہے۔

بھارت نے اوپر کے نمبروں میں جگہ مزیدبہتر بنالی ہے اور گزشتہ برس اکیاسی نمبر پر رہنے کے بعد رواں سال چھیاسٹھ نمبر پر آگیا ۔

گزشتہ سال تک نیپال جنوبی ایشیا کا واحد ملک تھا جو جدیدیت میں پاکستان سےپیچھے تھا مگر رواں سال ،بیس درجے پھلانگ کر پاکستان سے چار درجے آگے آگیا اور اس طرح اب اس کا نمبر115ہے۔

اس کی ایک وجہ ملک میں اسکولوں اور کالجوں میں سائنسی تعلیم کے معیار اور لیبارٹری کی سہولیات اور قابل اساتذہ کی کمی ہے۔

رپورٹ کے مطابق،گزشتہ سال جی ڈی پی کا صرف دو فیصدتحقیق اور ترقی کے شعبے پر خرچ کیا جا رہاتھاجس کی وجہ سےتعلیمی اداروں میں سائنس کی طرف زیادہ توجہ نہیں دی جاتی۔

رواں سال بھی جی ڈی پی کا فقط 0.29فی صد تحقیق اور سائنس پر لگایا جا رہا ہے جبکہ دنیا کے اوسط ترقی یافتہ ممالک دو سے چار فیصد کے درمیان تحقیق پر خرچ کرتے ہیں۔

اس وقت ملک میں ساٹھ ہزار چھ سو نناوے محققین پاکستان میں کام کر رہے ہیںجن میں دس ہزار چھ سو ستر پی ایچ ڈی ہولڈرزشامل ہیں،یہ تعداد ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے ۔

دوسری طرف سوئٹزرلینڈ ، سویڈن ، برطانیہ ، امریکہ ، فن لینڈ اور سنگاپور 2016 کی ٹاپ لسٹ میں شامل ہیں۔تاہم چین مزید ترقی کرکے جدیدیت کے چار درجے آگے نکل گیا اور دنیا کےسب سے جدید پچیس ممالک کی فہرست میں آگیا۔

چین کے لیےیہ پہلا موقعہ ہے کہ ایک درمیانی آمدنی والے ملک ہونے کے باوجود ترقی یافتہ معیشتوں میں شامل ہوا ہے ۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں