مظہر بر لاس…تین تقریریں، تازہ حالات

تین تقریریں، تازہ حالات… مظہر بر لاس
رات بھر کی مسافت کے بعد صبح لاہور سے لوٹا تھا کہ غروب آفتاب سے پہلے غلام سرور خان کے بھائی صدیق خان کی نماز جنازہ میں جانا پڑا، مرحوم صدیق خان پنجاب اسمبلی کے رکن تھے، ان کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ ان کی نماز جنازہ میں شریک ہونے کیلئے لوگوں کو میلوں کی مسافت پیدل طے کرنا پڑی، کسی نے چھ کلومیٹر تو کسی نے آٹھ سے دس کلومیٹر سفر طے کیا، مجھ خاکسار کو بھی سات آٹھ کلومیٹر سفر طے کرنا پڑا۔
مزید پڑھیں:کچھ باتیں رمضان کے ساتھ…..
عام لوگوں کی بڑی تعداد کے علاوہ تمام سیاسی پارٹیوں کے کئی اہم رہنما نظر آئے۔ ایک شخص تیزی سے پیدل چل رہا تھا جبکہ ہم آہستہ آہستہ، جب وہ تیزی سے پاس سے گزرا تو مجھے ن لیگ کے ایک رکن اسمبلی کہنے لگے کہ ’’……جتنی تیز رفتاری سے عمران خان چلتا ہے، ہم سے نہیں چلا جاتا، آخر کھلاڑی ہے نا، وہ تو چل کیا بھاگ رہا ہے……‘‘ مجھ ایسے سہل پسند کے لئے روزے کی حالت میں پیدل چلنا مشکل تھا مگر یہ سفر کٹ ہی گیا، واپسی پر سوچ رہا ہوں کہ آخر انسان کچھ بھی نہیں، وہ عمر بھر بہت کچھ بناتا ہے اور پھر ایک کفن لئے قبر میں اتر جاتا ہے، اس کا سب کچھ یہیں رہ جاتا ہے، پتہ نہیں ملکی دولت لوٹنے والوں کو یہ بات کیوں سمجھ نہیں آتی، وہ اپنے وطن کو لوٹتے ہیں، بیرون ملک جائیدادیں بناتے ہیں، دوسرے ملکوں میں دولت کے ڈھیر لگاتے ہیں اور پھر چندر گپت موریہ کی تھیوری پر عمل کرتے ہیں، تھیوری یہ ہے کہ ’’……جب تم غیر مقبول ہو جائو تو پھر بیمار ہو جائو اور پھر اس بیماری میں مذہب کا رنگ چڑھائو تاکہ لوگوں کی ہمدردیاں سمیٹ سکو……‘‘ آپ دیکھیں گے کہ اس تھیوری کے تحت آپ کے حکمران کچھ عرصہ بعد سعودی عرب چلے جائیں گے، وہاں سے نوافل پڑھتے ہوئے تصاویر بنوائیں گے، اس کے بعد ان تصویروں کی تشہیر کروائی جائے گی۔
مزید پڑھیں:آپریشن اور سی پیک….
لوگو! پتہ نہیں کیوں لوگوں کو اس فرمان رسولؐ کی سمجھ نہیں آتی کہ ’’……دنیا کی زندگی ایسے ہی ہے جیسے کوئی مسافر کچھ دیر کیلئے آرام کی غرض سے کسی درخت کے نیچے ٹھہرا ہو……‘‘ آپ کو پتہ ہے کہ ہمارے پیارے رسولؐ نے بڑے بڑے محلات بنانے سے منع کیا ہے، بڑی بڑی جائیدادیں بنانے سے منع کیا ہے۔ دولت کے بھوکے لٹیروں کو پتہ نہیں یہ کیوں یاد نہیں رہتا کہ جب ایک شخص نے حضرت علیؓ سے پوچھا کہ دولت کی حیثیت کیا ہے؟ تو خدا کے شیر نے تھوڑی سی خاک ہتھیلی پر رکھ کر اسے پھونک سے اڑا دیا اور پھر فرمایا کہ دولت کی یہی حیثیت ہے۔
دنیائے ہست و بود کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ انسان کا کردار ہی اہم ہے۔ کردار، دولت سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ اگر کسی کو سمجھ نہ آئے تونواسہ رسولؐ حضرت امام حسینؓ کا کردار دیکھ لے، دولت تو انہیں مدینے میں بھی مل سکتی تھی مگر انہوں نے کردار کی عظمت کودولت پر ترجیح دی، دولت رہنمائوں کو بلند نہیں کرتی، ان کے کردار انہیں بلند کرتے ہیں۔ اسی طرح عدالت، عدل سے تو قائم رہ سکتی ہے، عدلیہ سے نہیں۔ جن معاشروں میں انصاف نہیں ہوتا، وہ معاشرے مٹ جاتے ہیں، ظلم کا راج کبھی ہمیشہ نہیں رہ سکتا، جھوٹ کی سلطانی کبھی ہمیشہ قائم نہیں رکھی جاسکتی۔ جھوٹ کو چھوڑ دینے سے مغرب ترقی کر جاتا ہے اور سچ کو چھوڑ دینے سے ہمارا معاشرہ برباد ہو جاتا ہے۔
کالم کے آغاز میں آپ نے لاہور کا تذکرہ پڑھا۔ 17 جون کی شام میں لاہور کی مال روڈ پر ہونے والے دھرنے کے اسٹیج پر تھا۔ دھرنے میں نہ جانے کے بہانے بہت تراشے مگر قادری صاحب نے اپنے دو بندے نور اللہ صدیقی اور عبدالحفیظ چوہدری پیچھے لگا رکھے تھے، ان دونوں نے لاہور آنے پر مجبور کیا۔ یہ وہی مال روڈ تھی جہاں کئی برس پہلے نیو ہاسٹل گورنمنٹ کالج لاہور سے نکل کر ہم پیدل ہی دور دور تک کی مسافت طے کر لیا کرتے تھے۔ ایک عرصے کے بعد لاہور کی کسی سیاسی تقریب میں شرکت کا موقع ملا۔ رمضان المبارک کے باوجود شہدا کی برسی پر عوامی تحریک نے ایک بڑا اجتماع کیا، اس اجتماع میں ڈاکٹر طاہر القادری کے کارکنوں کا حوصلہ قابل دید تھا۔
اگرچہ اس دھرنے سے تین چار جماعتوں کے علاوہ ملک کی تمام جماعتوں کے قائدین نے خطاب کیا مگر میرے خیال میں اس دھرنے کی تین تقریریں بڑی اہم اور یادگار تھیں۔ پروفیسر ڈاکٹر طاہرالقادری کا خطاب بڑا مدلل اور پرمغز تھا، انہوں نے ظالم اور مظلوم کو مرکزی نکتہ بنا کر نظام کی خرابیوں کی نشاندہی کی۔ شہداء کا مقدمہ فوجی عدالت میں چلانے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چوں کہ اس مقدمے کی ایف آئی آر سپہ سالار جنرل راحیل شریف کے کہنے پر درج ہوئی تھی وہی اب انصاف دلوائیں اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت شہدائے ماڈل ٹائون کا مقدمہ فوجی عدالت میں چلوائیں۔
دوسری تقریر جو اہم تھی وہ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کی تھی۔ اس تقریر میں عوامی جذبات کا غلبہ تھا، جوش اور جذبہ تھا، شیخ صاحب نے ایک مرتبہ پھر حکومت کے جانے کی تاریخ دے دی۔
تیسری اہم تقریر پی ٹی آئی کی رہنما سیدہ سلونی بخاری کی تھی۔ محترمہ سلونی بخاری کی تقریر انتہائی فکر انگیز تھی۔انہوں نے سماجی ناہمواریوں کو انصاف کا آئینہ دکھایا۔ انہوں نے ظلم کی داستانوں میںانصاف کے معیاروںکو خوب لتاڑا۔ سلونی بخاری کی تقریر نے دلوں کو مسحور کیا۔ شاید وہ پی ٹی آئی کی واحد خاتون رہنما ہیں جو اتنی شاندار تقریر کرتی ہیں۔ ان کی گفتگو کو لوگوں نے بہت سراہا۔ خاص طور پر انہوں نے ماڈل ٹائون میں شہید ہونے والی عورتوں کا تذکرہ بڑے نمناک انداز میں کیا۔
’’پارلامنٹ شاہ‘‘ نے سابقہ دھرنوں کو اسکرٹیڈ دھرنے قرار دیا ہے، حالیہ دھرنے کے بارے میں پتہ نہیں ان کا کیا خیال ہے کیونکہ اس دھرنے میں ان کی پارٹی کے کئی محبوب رہنما بھی شامل تھے۔ بلاول بھٹو زرداری کی حالیہ تقریروں کا اسکرپٹ پتہ نہیں کس نے لکھا ہے؟ خورشید شاہ کے لئے ’’اپوزیشن لیڈر‘‘ کا کردار پتہ نہیں کس نے لکھا ہے؟
تازہ ترین حالات بڑے نازک ہیں۔ فیصل رضا عابدی کےبقول بجٹ میں سی پیک کے لئے کچھ نہیں رکھا گیا۔ طاقت کے بین الاقوامی کھلاڑیوں نے ان کی مدد کرنے سے انکار کردیا ہے جو مدد کی آس لگائے بیٹھے تھے ان کا خیال تھا کہ شاید جمہوریت کے نام پر طاقتور ملکوں سے مدد مل جائے مگر طاقتور ملکوں نے جمہوریت کے نام پر لوٹ مار کی مدد کرنے سے انکار کردیاہے، اب ہر طرف سے تراکیب لڑائی جارہی ہیں، کسی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے، جیت وطن پرستوں کی ہوگی، وطن سے محبت کرنے والوں کومبارک ہو کہ انہوں نے وطن کے خلاف کام کرنے والوں کیلئے بہت کچھ تیار کرلیا ہے، بقول سرور ارمانؔ؎
نہ مشوروں، نہ تجاویز کی ضرورت تھی
نظر میں تم تھے تو کس چیز کی ضرورت تھی
امیر شہر کے فرمان کی عبارت میں
کہیں مزید، کہیں نیز کی ضرورت تھی

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں