تیرے روشن چراغ….. مظہر بر لاس

تیرے روشن چراغ….. مظہر بر لاس
میرے پیارے وطن تیرے روشن چراغ بجھے نہیں، شہید ہوئے ہیں، شہید چراغوں کی طرح روشن رہتے ہیں، وہ قیامت تک جگمگاتے رہیں گے۔
مگر میرے پیارے وطن! تیرے شہروں میں موت کیوں بس گئی ہے۔ تیری خوشگوار فضائوں کو سوگوار کس نے بنادیا ہے، تیری بستیوں میں خوف کی صفیں کون بچھا گیا ہے، تیری صبحوں کو آنسو، تیری شاموں کو ماتم، تیرے دن میں بے خوفی، تیری راتوں کو آہیں کون دے گیا ہے۔
بازاروں میں ڈاکے، سڑکوں پہ ناکے، رخساروں پہ آنسو، چوری چکاری، قبضے، بھتے، زندہ جلانا، گولیوں سے بھوننا، بارود کی بانہیں، یہ فرقہ پرستی، ظلم کی حکومت، ستم کی طاقت، خوف کے سائے، جوان لاشے، بیوگیاں، یتیمی، مفلسی، بھوک، پیاس، شکم پرست مولوی، راء کے ایجنٹ کون دے گیا ہے؟ نکمے، نااہل، بے فکر حکمراں، لٹیرے، وڈیرے ، اہل سیاست، کرپشن کی داستان کون دے گیا ہے؟ کہیں فتویٰ فروش ، کہیں لفظ فروش، کہیں قلم فروش، کہیں ستم فروش، کہیں عدل فروش، کہیں ضمیر فروش کون دے گیا ہے؟
صاحبو! میں نے سارے سوالوں کو سامنے رکھا، انہیں پرکھا اور پھر پوچھا کہ یہ سب کچھ میرے وطن کو کون دے گیا ہے۔ جواب آیا…..’’دولت کا لالچ، دولت کا کھیل، دولت کی ہوس‘‘27رمضان المبارک کو بننے والے اس ملک میں ایسا کیوں ہورہا ہے پھر اس کیوں کا جواب آیا کہ یہاں لوگ دولت کے ڈھیر لگانا چاہتے ہیں۔
دولت کی آرزو میں انسانیت بھول جاتے ہیں، زر سے محبت ان سے وطن پرستی کا زیور چھین لیتی ہے، چودہ سو برس سے زائد کا عرصہ بیت گیا جب رسولؐ خدا نے فرمایا تھا کہ…….’’ہر امت کے لئے ایک فتنہ ہے اور میری ا مت کے لئے مال فتنہ ہے….‘‘۔
دہشت گردوں کے علاوہ دہشت گردی کے سہولت کار ذمہ دار ہیں۔ ان لوگوں نے اپنے وطن میں موت کا کھیل شروع کررکھا ہے۔ پس پردہ نام نہاد جمہوریت ہے۔ لوٹ مار اور مک مکا پر مشتمل جمہوریت میں بھارتیوں کے پاکستانی کارڈر بن جاتے ہیں، پاسپورٹ بن جاتے ہیں بلکہ ایسے لوگ کئی سرکاری اداروں میں بھرتی ہوجاتے ہیں، پس پردہ سفارشیں اہل سیاست کی ہیں۔ ان سفارشوں میں لپٹی ہوئی سازش ہمارے دماغوں کو مٹی کا ڈھیر بنارہی ہے۔
ہمارے امن پسندوں کو ٹارگٹ کررہی ہے، بدقسمتی سے ہماری صفوں میں دشمن کے ایجنٹ گھسے ہوئے ہیں جس سازش کے تحت کئی مسلمان ملکوں کی افواج کو برباد کیا گیا، اسی سازش کے تحت پاکستانی افواج کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا جاری ہے، پس پردہ پھر اہل سیاست ہیں۔ ان کی محفلوں میں فوج پر تنقید کرنا فیشن بن گیا ہے، ان کے حواری دانشور وطن دشمنی پر اترے ہوئے ہیں۔ دولت کی محبت میں اتنا اندھا بھی نہیں ہونا چاہئے کہ ملک اور مذہب کے خلاف کام کیا جائے۔ پورے پورے سیل کام کررہے ہیں کسے نہیں پتہ کہ کلبھوشن پکڑا گیا، اس گرفتاری پر جمہوریت سے پیار کرنے والے کیوں خاموش رہے؟۔ کسے نہیں پتہ کہ اسی کلبھوشن کے ساتھی کراچی سے پکڑے گئے۔
ان گرفتاریوں پر بھی بھارت سے دوستی کے گیت گانے والے چپ رہے۔ بھارت کی شہ پر افغانستان نے فائرنگ کی تو پھر بھی ان کے لب نہ ہلے۔ بلوچستان میں بہت سے کیمپ پکڑے گئے جو را کے ملاپ سے قائم ہوئے۔ نام نہاد برادر اسلامی ملکوں کے بھی نام آئے، مگر ظاہر ہے کہ را کو یہاں سے ایجنٹ دستیاب ہوئے تو ایسا ہوا۔ گلشن میں لگی آگ پھیل رہی ہے۔ دشمن کبھی ہماری ایک سرحد سے وار کرتا ہے تو کبھی دوسری سرحد سے، جب منہ کی کھانا پڑتی ہے تو پھر ہمارے شہروں میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے موت کا زہر گھولتا ہے۔
وقت کی پکار ہے کہ اپنی صفوں کو دشمن کے ایجنٹوں سے پاک کیا جائے۔ بھارت سے محبت کے گیت گانے والوں کے چہروں کو بے نقاب کرکے حساب لیا جائے۔ اپنی صفوں میں سے دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو تلاش کرکے کڑی سزا دی جائے۔ اجیت کمار دوول کے ساتھیوں کو ہر محاذ پر شکست دی جائے، قوم میں 1965والا جذبہ بیدار کیا جائے، جب شاعروں نے کمال ترانے لکھے تھے اور گانے والوں نے بھی دل سے گا کر ترانوں کو امر کردیا تھا۔
پوری قوم ایک تھی، یہ جذبہ لوٹ سکتا ہے مگر اس کے لئے جمہوریت کا لبادہ اوڑھے دہشت گردوں کے سہولت کا روں کو بے نقاب کرنا ہوگا۔ ایسے لوگوں کا سوشل بائیکاٹ کرنا ہوگا جو کسی نہ کسی صورت میں دشمن کے کارندے بنے ہوئے ہیں۔ دہشت گردی کی روک تھام کے لئے کرپشن اور لوٹ مار کا کھیل روکناہوگا۔
امجد صابری پاپوش نگر کے شہر خموشاں میں خاموش سوگیا ہے۔ اس نے عمر بھر محبتیں بانٹیں، اس نے والد کی روایت کو برقرار رکھا۔ اس نے در رسولؐ پے صدائے عقیدت بلند کی، ہمارا بچپن تھا تو غلام فرید صابری کو سنا کرتے تھے، اب اس کمی کو امجد صابری نے پورا کر رکھا تھا۔ آج کل رمضان المبارک میں وہ بڑا سرگرم تھا، اس نے نعت اور قوالی کو جدت عطا کی، جس شہر میں اسے موت دی گئی وہاں کچھ برس پہلے امن کے ایک سفیر حکیم سعید کو بھی موت دی گئی تھی۔ دشمن ہمارے شہروں میں افراتفری دیکھنا چاہتا ہے۔ اسے نرم نہیںسخت ہاتھوں سے روکنا ہوگا۔
حکومت کی نااہلیوں کا تذکرہ کروں تو یار لوگ ناراض ہوجاتے ہیں۔ وطن سے محبت کی بات کریں تو ان کا ’’چہرہ‘‘ سرخ ہوجاتا ہے، بھارت کے خلاف بات کریں تو ان کے ماتھے پر بل پڑتے ہیں، کرپشن کی بات کریں تو وہ ناراض ہوجاتے ہیں، امن و امان کا موضوع چھیڑیں تو برا مان جاتے ہیں، دہشت گردوں کے سہولت کاروں کا ذکر کریں تو پھر بھی نالاں ہوجاتے ہیں۔
حالت یہ ہے کہ راجہ ناصر عباس نے کئی روز سے اسلام آباد میں بھوک ہڑتال کر رکھی ہے اور حکومت وقت کو کوئی پروا نہیں، ذرہ برابر فکر نہیں، قتل عام پورے ملک میں ہورہا ہے مگر فیصلے تو اسلام آباد میں ہوتے ہیں۔
بقول غالبؔ
ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
خاک ہوجائیں گے ہم تم کو خبر ہوتے تک

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں