تیری یاد آئی۔۔۔۔۔۔۔ تیرے جانے کے بعد

گذشتہ ساڑھے چھ دیائیوں سے انسانوں اور انسانیت کا علمبردار ، عظیم انسان، عبدالستار ایدھی اس جہانِ فانی سے بڑے شاہانہ انداز میں رخصت ہوا ۔ ایسا عظیم الشان انسان شاید صدیوں میں پیدا ہو تا ہے لیکن ہماری خوش قسمتی تھی کہ قیامِ پاکستان کے ابتدائی سالوں میں ہی یہ گوہرِ نایاب انڈیا سے ہجرت کر کے پاکستان چلا آیا ۔ قومی و بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا نام روشن کیا اور رضاکاریت کے اصل معنوں کو روشناس کروایا ،ملکی و غیر ملکی طور پر پذیرائی ملی۔ اس نے اپنے اعمال سے ثابت کیا کہ جنت میں داخل ہونے کے لئے اللہ کے بندوں سے محبت لازم و ملزوم ہے۔ زبانی کلامی اچھی اچھی باتیں کرنا تو کوئی مشکل کام نہیں بلکہ اس کو عملی جامہ پہنانا ہی اصل کام ہے۔
سادگی کا پیکر عبدالستار ایدھی جس نے پاکستان میں 1500 سے زائد ایمبولینسس پر مشتمل دنیا کی سب سے بڑی پرائیویٹ ایمبولینس سروس متعارف کروائی ، جوکراچی کے علاوہ پاکستان کے مختلف شہروں میں چوبیس گھنٹے کسی بھی طرح کی قدرتی آفات اور ہر طرح کی ایمرجنسی سے نمبرد آزما ہونے کے لئے ہر وقت تیار ،20 ہزار سے زائد نو مولود بچوں کی جان بچانے والا، 50 ہزار سے زائد یتیم بچوں کا سر پرستِ اعلٰی، شہری و دیہی علاقوں میں صحت عامہ کے330 سینٹرز کے لئے تقریباً40ہزارنرسز کو تربیت یافتہ بنانے والا،بے سہارا خواتین اور انکے بچوں کے لئے رہائش ، کھانے پینے کا انتظام ، نفسیاتی مریضوں کے لئے علاج معالجہ کی سہولیات، نشے کے مریضوں کی بحالی کے ادارے ،اولڈ ایج ہومز، غرض ایدھی نے نیکی کے کسی کام کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا‘ اپنے دامن میں دعائیں اتنی سمیٹیں کہ لوگ انھیں رحمت کا فرشتہ کہہ کر بلاتے۔
کیسا عجیب شخص تھا ایدھی ؟ جس کو اس بات کا خیال تک نہیں تھا کہ وہ اپنے بیوی بچوں کے لئے کوئی ذاتی گھر بنا دیتا ، بیرونِ ملک کوئی سرمایا کاری ہی کر لیتا ‘ کوئی آف شور کمپنی ہی بنا لیتا‘ اپنے لئے پُر آسائش زندگی چُن لیتا‘ کچھ ایکڑوں پر محیط محل بنا لیتا‘ آگے پیچھے نوکروں کی بھیڑ لگا لیتا، اچھے اچھے ملبوسات زیب تن کرتا، بڑی گاڑیوں کی لائنیں لگا لیتا،مگر یہ کیا اس نے تو زندگی گذارنے کا معنی ہی تبدیل کر دیا۔ پوری زندگی دو ملبوسات میں ہی گذار دی، ایک جوڑا پہنا دوسرا دھو کے رکھ لیا جب وہ میلا ہو گیا تو دوسرا پہن لیا۔ حتٰی کہ اپنی شادی والے دن بھی اسی ملایشیا کے شلوارقمیص میں ہی دولہا بن گیا 20 سال تک ایک ہی جوتا پہنا۔ُ مردوں کے جوتے پہن لیتا ۔کہتا کہ اس طرح اللہ بہت یاد رہتا ہے اور بندے کو اس کی اوقات ۔شاید ایدھی نے فلسفہء حیات کو بخوبی سمجھ لیا تھا اسے علم ہو گیا تھا کی یہ دنیا محض ایک عارضی پڑاؤ ہے جہاں سرمایا کاری گھاٹے کا سودا ہے‘ لہذا وہ اللہ کی رضا کو پورا کرنے کے لئے انسانیت کا علم ہاتھوں میں اٹھائے اپنی ڈگر پر چلتا رہا ۔
رضاکاریت اور عشق ایک ہی طرح اثر انداز ہوتے ہیں ۔جس طرح عشق کرنے والوں کو کسی چھٹی یا تہوار سے کوئی غرض نہیں ہوتی اسی طرح رضاکار کو بھی کوئی چھٹی نہیں ہوتی۔ ایدھی کو انسانیت کی خدمت سے عشق تھا ۔ ریلوے ٹریکس سے کٹی ہوئی لاشوں کو اٹھانا، گٹروں سے تعفن زدہ لاشوں کو نکالنا، ان کو ایک بھائی اور باپ کی طرح نہلانا، کفنانا، اور احترام کے ساتھ سپرد خاک کرنا، کوڑے دانوں سے نو مولود بچوں کو نکالنا، زخموں سے چور زخمیوں کو ہسپتال پہنچانا، ہتیموں بے سہاروں کے سر پر دست شفقت رکھنا۔ جہاں بھی ضرورت ہوتی یہ خدائی خدمت گار ہر وقت تیار رہتا تھا ۔ اپنی ذاتیات سے بالا تر ہو کر ایک ہی دُھن میں چلتا رہا، انسانوں کو علاوہ جانوروں سے بھی محبت کرنے والا، جب تھر کے علاقے میں موروں میں رانی کھیت کی بیماری آئی تو وہاں بھی یہ مسیحا بن کر پہنچ گیا، قدرتی آفات میں زلزلے ہوں یا سیلاب، ایدھی اپنے کارکنوں کے ہمراہ سر گرم عمل ، موسموں کی صعو بتیں بھی اس کی خدمت میں حائل نہ ہو سکیں ۔ مخالفین کی مخالفت بھی اس کے ارادوں کو متزلزل نہ کر سکی ،حتیٰ کہ اس کے صحت کے مسائل بھی اس کے عزم کے آڑے نہ آ سکے۔ یہاں تک کہ جاتے جاتے وہ نحیف ولاغر شخص اپنی آنکھیں بھی عطیہ کر کے انسانیت کی معراج کو چھُو گیا۔
ہماری قوم کا یہ المیہ ہے کہ ہمیں کسی بھی شخص کی قدر ہوتی ہے مگر اس شخص کے چلے جانے کے بعد ۔ ایدھی کی خدمات کا سفر تقریباً 65 سالوں پر محیط ہے گو کہ ان کی خدمات کا عالمی سطح پر بھی اعتراف کیا گیا لیکن جیتے جی شاید اس طرح کی پذیرائی نہ ملی بلکہ ان کو کفر کے فتوؤں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان پر طرح طرح کے الز مات لگائے جاتے ،ا ان کے ساتھیوں کو زدو کوب کیا جاتا ،اغوا کیا جاتا تب ان کی حمایت کے لئے کوئی صدا نہ اٹھی ، کوئی احتجاج ہوا نہ جلوس نکلا ، اور یہ پھر ا سی نیک نیتی سے اپنے کام میں جُٹ جاتا۔ دیکھا جائے تو ایدھی نے اپنے رب اور وطن دونوں سے وفا کی ہے ۔ ان کو معلوم تھا کہ ان کے دونوں گردے فیل ہوچکے ہیں اور کسی بھی بیرونی ملک میں ان کا بہترین علاج ہو سکتا تھا ہمارے بہت سارے صاحب حیثیت لیڈران نے ان کو بیرونِ ملک علاج کی پیش کش بھی کی لیکن اپنے وطن کی محبت میں سرشارا یدھی نے ایسی تمام پیش کشوں کو ٹھکرا دیا کہ میرے غریب بہن بھائی یہاں سے علاج کرواتے ہیں تو میں کیوں بیرون ملک جاؤں۔حیرت کی بات ہے جو شخص غریبوں کے لئے ہاتھ پھیلا کر بھیک مانگنے میں بھی عار محسوس نہیں کرتا تھا لیکن اس نے اپنے لئے کی گئی ہر پیش کش ٹھکرا دی۔
ایدھی طویل علالت کے باعث وہ 8جولائی کو پاکستانی قوم کو داغِ مفارت دے گئے یہ ایسا نقصان ہے جس کی بھر پائی شائد جلد ممکن نہیں ہے لیکن وہ سب کے لئے ایک عملی نمونہ چھوڑ گئے ہیں ، پوری پاکستانی قوم سوگوار ہے ہر ٹی وی چینل نے ان کی وفات پر بھر پور کوریج دی۔ ان کو خراجِ تحسین پیش کیا، قرب و جوار سے لاکھوں کی تعداد میں لوگ ایدھی کا آخری دیدار کرنے پہنچے۔ جو وہاں نہیں جا سکتے تھے انھوں نے ٹی وی چینلز کی بدولت آخری دیدار کیا۔الیکٹرانک وپرنٹ میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی عوام نے حتٰی المقدور دکھ کا اظہار کیا، کچھ لوگوں نے تو’’ ڈی پی‘‘ ہی ایدھی کی تصویر کو بنا لیا ، کچھ لوگوں نے کہا کہ اسلام آباد ائیر پورٹ کا نام تبدیل کرکے ایدھی ائیر پورٹ رکھ دیا جائے۔ کچھ نے مشورہ دیا کہ 8جولائی کو ایدھی ڈے قرار دیا جائے ۔ دیکھا جائے تو یہ سب مشورے بہت اچھے ہیں ان کو پورا کرنے میں کوئی قباحت بھی نہیں لیکن میں یہ کہتی ہوں کہ کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ ہر دن ہی ایدھی ڈے ہو۔ تا کہ کوئی زخمی بیچ سڑک پہ دم نہ توڑ دے۔ کوئی لاش بے گورو کفن نہ رہے ۔ کوئی نومولود غلاضط کے ڈھیر سے نہ ملے، کوئی بچہ یتیمی کے کرب سے نہ گذرے، کوئی بے سہارہ خاتون بچوں کے ساتھ در بدر نہ ہو، کوئی غریب بھوکا نہ سوئے ، سب کو علاج معالجے کی سہو لتیں میسر ہوں ، کوئی بزرگ بے گھر نہ ہو ۔ کسی کا جوان بچہ نشے کی لت میں نہ پڑے۔ ہر طرف امن کا راج ہو‘ ہر روز ایدھی ڈے ہو اور ہر پاکستانی ایدھی ہوجائے۔۔۔کاش ایسا ہو جائے

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں