ترک سپریم ملٹری کونسل کا تینوں افواج کے سربراہوں کو برقرار رکھنے کا فیصلہ

صدر اردگان نے فیصلے کی منظوری دیدی ‘2 جرنیل مستعفی ؛ فتح اللہ گولن امریکا سے فرارہوسکتے ہیں، وزیرانصاف

بغاوت کے بعد 15846 افراد گرفتار کیے گئے، وزیر داخلہ، امریکی سفارتی عملہ کے اہلخانہ کو ترکی سے واپسی کی اجازت مل گئی

انقرہ(پی ایف پی) ترکی کی سپریم ملٹری کونسل نے تینوں افواج کے سربراہوں کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس بات کا اعلان صدر طیب اردگان کے ترجمان ابراہیم خلیل نے انقرہ میں ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ انہوں نے کہا اس بات کا فیصلہ وزیراعظم بن علی یلدرم کے زیر صدارت کونسل کے اجلاس میں کیا گیا جو پانچ گھنٹے جاری رہا۔ ان کے مطابق پندرہ جولائی کو ہوئی ناکام بغاوت میں جنرل خلوصی عکارکو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا صدر اردگان نے کونسل کے فیصلوں منظوری دے دی ہے۔ بغاوت میں ملوث ہونے کے الزام میں سترہ سو فوجیوں کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ادھر اعلیٰ فوجی قیادت کے اہم اجلاس سے قبل 2 جرنیل مستعفی ہوگئے۔ غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق زمینی افواج کے چیف آف اسٹاف جنرل احسان یار اور تربیت و ڈاکٹرائن کمانڈ کے سربراہ جنرل کامل بسوگلونے اپنے استعفیٰ پیش کر دیے ہیں۔ مستعفی ہونے والے دونوں جرنیل اعلیٰ فوجی اہلکار تصور کیے جا رہے تھے۔ترک میڈیا کے مطابق دونوں جرنیلوں نے اعلیٰ فوجی قیادت کے اہم اجلاس سے کچھ دیرقبل مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔
وزیرداخلہ افکان آلا کا کہناہے کہ ناکام بغاوت کے بعدسے لے کراب تک 15846 افراد کو گرفتار کیا جاچکاہے،ان میں 10012 فوجی، 2901سپاہی اور 2167 ججز و پراسیکیوٹرز شامل ہیں۔ترک حکام کے مطابق گرفتارافرادمیں سے 3000 افرادکورہا کر دیا گیا ہے۔ سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق 51322افرادکوانوکریوں سے برطرف کر دیا گیا ہے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق وزرات تعلیم سے ہے۔ ترکی کے وزیر انصاف باقر بوزداغ نے ہیبرترک ٹی وی سے بات کرتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیاہے کہ امریکامیں خود ساختہ جلاوطنی کاٹنے والے ترک مبلغ فتح آ گولن وہاں سے فرارہوجائیں گے، انھوں نے کہاکہ انھیں انٹیلی جنس رپورٹس ملی ہیں کہ گولن آسٹریلیا،میکسیکو، کینیڈا، جنوبی افریقہ یامصر جاسکتے ہیں تاہم فتح اللہ گولن نے ترک وزیر انصاف کے اس بیان کو مسترد کردیا۔
انقرہ میں امریکی سفارت خانہ نے کہاہے کہ امریکی محکمہ خارجہ نے انھیں اس بات کی اجازت دے دی ہے کہ ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعدسفارتی عملہ کے اہل خانہ رضاکارانہ طور پراپنے وطن لوٹ سکتے ہیں۔مصری وزیراعظم شریف اسماعیل نے باور کرایاہے کہ مصری حکام کے پاس اس حوالے سے کوئی مصدقہ معلومات نہیں کہ فتح آ گولن نے مصر سے سیاسی پناہ کا مطالبہ کیا ہے

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں