ترکی اور پاکستان میں کوئی فرق نہیں

ہائیڈ پارک۔۔۔۔۔۔میم سین بٹ
ترکی میں فوجی ٹولے کی جانب سے منتخب عوامی اور اسلامی حکومت پر شب خون مارنے کی کوشش ناکام ہونے کے پاکستان پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں ،مارشل لاء کی مالا جپنے والوں کو سانپ سونگھ گیا ہے جبکہ جمہوریت پسندوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں،چند روز قبل آرمی چیف کو جمہوری حکومت کے خلاف بغاوت پر اکسانے کیلئے بڑے شہروں کی شاہراہوں پر فلیکس لگانے والے موو آن پاکستان نامی غیر معروف پارٹی کے چیئرمین میاں کامران فیصل آبادی کے خلاف لاہور کے تھانہ انارکلی میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اورمیاں کامران کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں ،اس سے پہلے میاں خلیل آف مریدکے بھی فوج کی حمایت میں لاہور کی سڑکوں پربینرز لگاتا رہا ہے لیکن میاں کامران
نے تو اخیر ہی کردی تھی جس کا سختی سے نوٹس لیا جانا ضروری تھا ،آئی ایس پی آر نے بھی میاں کامران سے اعلان لا تعلقی کردیا تھا،کچھ عرصہ پہلے آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنر ل باجو ہ اپنے ٹوئیٹ کے ذریعے آرمی چیف کی جانب سے مدت ملازمت میں توسیع نہ لینے کا اعلان کر چکے ہیں اس کے باوجود یہ سویلین لوگ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بننے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں۔
ترکی میں جمہوری حکومت پر فوج کے قبضے کی ناکامی پر پاکستان کے آمریت پسند صحافی دانشور اب کہہ رہے ہیں کہ ترکی اور پاکستان میں بہت فرق ہے حالانکہ دونوں ممالک کی تاریخ میں کچھ زیادہ فرق نہیں بلکہ پاکستان اور ترکی کی سیاسی تاریخ خاصی حد تک ملتی جلتی ہے دونوں اسلامی ممالک میں اب تک چار چار مارشل لاء نافذ ہوچکے ہیں اور حیرت انگیز طور پر ترکی اور پاکستان میں مارشل لاء نافذ ہونے کی تاریخیں بھی قریب قریب ہیں اس سلسلے میں ترکی کے جرنیل پاکستانی جرنیلوں کی پیروی کرتے نظر آتے ہیں ،پاکستان میں پہلا مارشل لاء 1958ء ،دوسرا 1969ء ،تیسرا 1977ء اور چوتھا 1999 ء میں لگایا گیا تھا جبکہ ترکی میں پہلا مارشل لاء 1960ء ،دوسرا 1971ء ،تیسرا 1980ء اور چوتھا 1997ء میں نافذ کیا گیا تھا ،ترکی کے پہلے مارشل لاء کے دوران معزول وزیر اعظم عدنان میندریس کو فوج نے ججوں کے ذریعے پھانسی دیدی تھی ،پاکستان کے تیسرے مارشل لاء میں بھی معزول وزیراعظم ذوالفقار بھٹو کو فوج نے عدالت کے ذریعے تختہ دار پر لٹکا دیا تھا دونوں ممالک میں جمہوری حکمرانوں کے خلاف فوج اور عدلیہ کا گٹھ جوڑ رہا ہے ترکی کے یہ دونوں ادارے اسلام کے خلاف اور لبرل ازم کے علمبردار چلے آرہے ہیں ،پاکستان میں چوتھا مارشل لاء جس جرنیل نے نافذ کیا تھا اس کی ابتدائی زندگی کا کچھ حصہ ترکی میں بسر ہوا تھا سابق فوجی آمر جنرل (ر) پرویز مشرف کا باپ ترکی میں پاکستانی سفارتخانے کا ملازم رہا تھا ،جنرل(ر) پرویز مشرف نے بھی وزیر اعظم نواز شریف کو معزول ،قید اور پھر جلاوطن کرنے کے بعدترک جرنیلوں کی طرح مذہبی طبقے کو کچلنے کا آغاز کیا تھا جس کے ردعمل میں خود کش دھماکوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا اور فوجیوں کو وردی پہن کر عوام میں جانے سے منع کردیا گیا تھابعدازاں فوج کے براہ راست اقتدار چھوڑنے کے بعد خود کش دھماکوں کا سلسلہ تھم گیا تھا ۔
ترک صدر رجب طیب اردگان اورپاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف میں کچھ باتیں مشترک ہیں ،دونوں فولادی اعصاب کے مالک اور اسلامی ذہن رکھنے والے سیاستدان ہیں اوراقتدار میں تیسری باری لے رہے ہیں ،طیب اردگان ترکی کے وزیر خارجہ اوروزیر اعظم رہنے کے بعد اب صدر کے عہدے پر فائز ہیں ، نواز شریف بھی دو مرتبہ وزیراعظم رہنے کے بعد اب تیسری بار اس عہدے پر
براجمان ہیں دونوں ماضی میں کھلاڑی رہ چکے ہیں ،طیب اردگان فٹبالر جبکہ نواز شریف کرکٹر رہے تھے دونوں فوج کی حاکمیت کے خلاف ہیں اور پارلیمنٹ کی بالا دستی چاہتے ہیں دونوں ماضی میں اقتدار سے جبری طور پرمحروم کئے جا چکے ہیں لہٰذااب فوج کے ناجائز اختیارات کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں ،طیب اردگان نے صدر بن کرآئینی ترامیم کے ذریعے فوج کے بہت سے غیر جمہوری اختیارات ختم کردیئے ہیں انہوں نے فوجی عدالتوں میں سویلین کے مقدمات چلانے پر پابندی عائد کرنے کے علاوہ فوج کے بجٹ پر پارلیمنٹ کی بالا دستی بھی قائم کردی ہے بلکہ عوامی حکومت کے خلاف فوجی بغاوتوں اوراقتدارپر قبضے کی سازشوں میں ملوث متعدد جرنیلوں کو برطرف کرنے کے علاوہ انہیں عمر قید کی سزا بھی دلوائی تھی ۔
اقتدارکی ہوس رکھنے والے سازشی اور طالع آزما جرنیلوں کے احتساب میں پہل بھی ترکی نے ہی کی ہے وہاں مسلح افواج کے سابق کمانڈرجنرل الکربا سیوگ کو اقتدار پر قبضے کا منصوبہ بنانے پر تین سال پہلے عمر قید کی سزا دی گئی تھی بلکہ سابق فوجی صدر جنرل کنعان ایورن کو بھی دو سال پہلے عمر قید
ہوئی تھی جو گزشتہ برس فوجی ہسپتال میں مرگیا تھا اس کے برعکس پاکستان میں آئین توڑ کر اقتدار پر قابض رہنے والے کسی سابق فوجی آمر کو سزا نہیں دی جا سکی ،غداری سمیت سنگین مقدمات میں ملوث سابق آمر جنرل (ر) پرویز مشرف کو موجودہ نواز شریف حکومت نے پکڑ کر اس کاا نام ای سی ایل میں ڈال دیا تھا مگر سابق آمر کے ساتھیوں نے اسے پولیس کی تحویل میں نہیں جانے دیا اور جنرل (ر) پرویز مشرف کو
کراچی میں اس کی رہائش گاہ پر رکھنے کے بعد حکومت پر دباؤ ڈال کر بالآخر ملک سے بھگا دیا تھا تاکہ اسے سزا ملنے سے کہیں ’’وقار‘‘ مجروح نہ ہو جائے ۔
ترک حکومت نے حالیہ ناکام بغاوت کے بعددو درجن جنرلز اورایڈمرلزسمیت متعدد فوجی افسروں کے ساتھ سیکڑوں ججوں کو بھی برطرف کرکے گرفتار کرلیا ہے جو جمہوریت کے خلاف فوج کی سازش میں ملوث تھے ،ترکی میں عوام کے ساتھ اپوزیشن پارٹیوں نے بھی فوجی ٹولے کے مقابلے میں جمہوریت کی خاطر صدر طیب اردگان کی حکومت کا ساتھ دیا پاکستان میں جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس عاملہ نے بھی ترکی میں جمہوری نظام پر شب خون مارنے والوں کی ناکامی پر ترک عوام کو مبارکباد پیش کی ہے بلکہ جماعت اسلامی پنجاب کے امیر میاں مقصود احمدنے اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ تمام اسلامی ممالک (بشمول پاکستان) میںآئندہ کسی طالع آزما کو مارشل لاء لگانے کی جرات نہیں ہو گی مگرصوبہ خیبر پختونخوا میں جماعت اسلامی کی اتحادی پارٹی تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہہ دیاہے کہ اگر پاکستان میں فوجی ٹولہ اقتدار پر قبضہ کرتا تو عوام مٹھائیاں بانٹتے ! اس بیان پر چیئرمین تحریک انصاف کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہاہے، کپتان خان کو دھرنے کے دوران ملاقات پر ایمپائر نے بتا دیا تھا کہ وہ حکومتی ٹیم کے کپتان کو آؤٹ قرار نہیں دے گا اور نہ ہی حکومتی ٹیم کا کپتان خود وکٹ چھوڑ کر پویلین میں واپس جائے گا اس کے باوجود کپتان خان ایمپائر کی انگلی کھڑے ہونے کے انتظار میں مزید بوڑھا ہوتا جا رہا ہے دراصل انصاف الیون کا کپتان ٹانگ کھینچ کھیل کا قائل ہے اسی لئے ایمپائر سے زیادہ لیگ ایمپائر اور معاونین سے توقعات لگائے رکھتا ہے دھرنے کے دوران بھی اسے ایمپائر کی بجائے لیگ ایمپائر اور معاونین کی حمایت حاصل رہی تھی ۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں