ترکی اور مغربی پروپیگنڈہ…… ڈاکٹر عبدالقدیر خان

ترکی اور مغربی پروپیگنڈہ…… ڈاکٹر عبدالقدیر خان
پچھلے دنوں جرمنی کی پارلیمنٹ نے ایک ریزو لوشن پاس کیا جس کا مقصد یہ تھا کہ پہلی جنگ عظیم کے دوران آرمینی نژاد باشندوں کی ترکی سے بیدخلی کو نسل کشی قرار دیا جائے اور جرمن پارلیمنٹ نے یہ ریزولوشن فوراً قبول کرلیا۔ ترکی کا ردّ ِ عمل قابل فہم تھا۔ تمام حقائق کو نظرانداز کرکے اور خود اپنے کرتوت یعنی کئی لاکھ یہودیوں کو گیس کی بھٹیوں میں جلا کر راکھ اُڑانے کو بھول کر ترکی کے خلاف یہ اقدام اُٹھایا۔ دراصل یہ صلیبی جنگوں کا تسلسل ہے۔ مغربی ممالک کے لیڈر اور عوام ہاتھ میں ڈنڈا لئے پھرتے ہیں اور جہاں موقع ملے مسلمانوں پر اس طرح برساتے ہیں جس طرح جاہل رکھوالے مویشی کو مارتے ہیں۔
دراصل واقعہ یہ ہے کہ ترکی نے اسلامی رواداری اور برداشت کے تحت لاتعداد غیرمسلمانوں کو اپنے ملک میں بسنے کی اجازت دیدی تھی۔ اس میں اسپین سے نکالے گئے یہودی صف اوّل میں تھے جن کو کسی بھی مغربی عیسائی ملک نے قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔ حضرت عمرؓ کے زمانے میں نہ صرف ایران بلکہ آذربائیجان اور آرمینیا فتح کرلئے گئے تھے۔ کیونکہ اسلامی ممالک میں امن و امان کی حالت اچھی تھی اور مالی حالت بھی اچھی تھی لاتعداد یونانی، آرمینیا کے باشندے اور یہودی یہاں آکر بس گئے تھے اور نہ صرف تجارتی پیشہ اختیار کرکے مالدار ہوگئے تھے بلکہ اعلیٰ عہدوں پر بھی لگ گئے تھے۔ ترکی میں کسی قسم کا مذہبی یا نسلی تعصب نہ تھا اور یہ لوگ بہت آرام کی زندگی گزار رہے تھے۔ انیسویں صدی کے اوائل سے ہی ترکی کی حکومت بہت کمزور ہوگئی تھی۔ مغربی ممالک صنعتی انقلاب کی وجہ سے ترقی کر گئے اور ہتھیار اور بحری جہازوں کی تیاری میں مہارت حاصل کرلی تھی۔
دراصل سولھویں صدی عیسوی کے اوائل سے ہی مغربی حکمراں اپنی مالی اور فوجی قوّت بڑھانے میں مصروف تھے، جبکہ مسلمان، محلات و باغات بنانے میں مصروف تھے۔ نتیجہ وہی نکلا جس کی توقع تھی یعنی کچھ ہی عرصے میں مغربی ممالک طاقتور اور مالدار ہوگئے اور مسلمان ریاستیں آہستہ آہستہ کمزور ہو کر ان کے تسلط میں آنا شروع ہوگئیں۔ ترکی کی حالت کچھ مختلف نہ تھی۔ ایک وقت وہ تھا کہ چین، انگلستان، فرانس، جرمنی، ہنگری، اٹلی وغیرہ کے حکمراں نہایت قیمتی تحفے بھیج کر سلطان ترکی کی خوشنودی حاصل کرتے رہتے تھے۔ جب پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی تو ترکی نے غیرجانبدارانہ پالیسی اختیار کی مگر نوجوان ، بے چین، ترکوں نے جرمنی کا ساتھ دینے کا اعلان کردیا اور ان کی کمان مصطفی کمال پاشا (کمال اتاترک) نے سنبھال لی۔ مغربی ممالک نے پوری کوشش کی کہ ترکوں سے صدیوں کی شکست و ذلّت کا بدلہ لیں۔
انھوں نے مشرقی یورپی ممالک، یونان وغیرہ کو اُکسایا کہ ترکی پر حملہ کردیں مشرق وسطیٰ میں ان کے خلاف جنگ شروع کردی گئی۔ لارنس آف عریبیا (کرنل لارنس) کی سربراہی میں عربوں نے ترکوں پر حملے کئے اور ان کا قتل عام شروع کردیا یہاں تک کہ متبرک مقامات پر بھی ان کی جان نہ بخشی، یہ ہماری تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے۔ ترک تو اس تمام علاقے سے نکال دیئے گئے مگر وعدوں کے خلاف مغربی ممالک نے عرب ممالک کے ٹکڑے کردیئے، لبنان کو آزاد کر کے فرانس نے قبضہ کرلیا، عراق پر اور مصر پر انگریزوں نے قبضہ کرلیا اور شام پر بھی فرانس نے قبضہ کرلیا۔ انگریزوں نے سازش کرکے یہاں مشرقی یورپ سے لاتعداد یہودی لاکر بسا دیئے اور آخر کار یہودی ریاست اسرائیل بنا ڈالی جس کی بنیاد مقامی عربوں کی جبراً نقل مکانی ، قتل و غارتگری اور نسل کشی پر رکھی گئی اور آج بھی مغربی ممالک اس کو ہتھیاروں سے لیس کرکے ناقابل تسخیر بنائے بیٹھے ہیں۔ مصر کو چند ٹکے دے کر اسرائیل کا نگہبان بنایا ہوا ہے۔عراق کو ختم کردیا اور اب شام کو تباہ کررہے ہیں تاکہ اسرائیل کیلئے کوئی بھی خطرہ نہ رہے۔
دیکھئے بات کہاں سے کہاں چلی گئی۔ پہلی جنگ عظیم میںترکوں کے جرمنی کی حمایت میں شامل ہونے پر مغربی ممالک نے اس کو ختم کرنے کا منصوبہ بنایا۔ بہت بڑا سمندری بیڑہ جس میں تقریباً ایک لاکھ انگریز، آسٹریلوی اور نیوزی لینڈ کے سپاہی تھے تیار کرکے گلی پولی کے مقام پر حملہ کردیا کہ وہاں سے داخل ہوکر پورے ترکی پر قبضہ کرلیں۔ کمال اتاترک بے حد دوراندیش اور اعلیٰ صلاحیتوں کے جنرل تھے انھوں نے پہلے ہی جرمنی سے لے کر وہاں بہت طاقتور توپیں نصب کردی تھیں۔ ان توپوں کی مدد سے ترکوں نے اس بحری بیڑے کو تباہ کردیا اور خبروں کے مطابق کوئی پچاس ساٹھ ہزار فوجی ہلاک ہوئے۔ اسی طرح کمال اتاترک نے یونانیوں کو بُری طرح شکست دی اور اپنی سرحدوں سے نکال دیا۔
ایک جانب تو ترک اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے تھے دوسری جانب تقریباً دو ملین (بیس لاکھ) آرمینی باشندے سازشوں میں مشغول تھے۔ ترکوں نے آذربائیجان کے شہر باکو پر قبضہ کرنے کی کوشش کی مگر روسیوں نے ان کے حملہ کو پسپا کردیا۔ اس وقت آرمینی باشندوں نے روسی فوجوں کا ساتھ دیا۔ امریکی اور مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق حقیقتاً آرمینی گروپس نے گوریلا جنگ شروع کردی اور روسیوں کے ساتھی بن گئے اور شام کی سرحد کے قریب اہم شہر وان (Van) پر قبضہ کرلیا تھا۔ اس دوران انھوں نے ترک باشندوں پر بہت مظالم ڈھائے تھے۔ جب ترک مغربی ممالک سے کامیابی سے مقابلہ کرکے اور ملک کو خطرات سے بچانے میں کامیاب ہوگئے تو انھوں نے ان تخریب کاروں کی اچھی خبر لی۔ مغربی ممالک نے آرمینی باشندوں کے کردار اور مظالم کو نظر انداز کرکے ترکوں پر الزامات کی بوچھاڑکردی اور صلیبی جنگوں کی نفسیات کو تازہ کردیا۔ ترکی نے مغربی ممالک کی دوسری جنگ عظیم کے بعد سے بے حد مدد کی۔ اپنی زمین نیٹو کو استعمال کرنے دی۔ سخت خطرہ مول لیا مگر یورپین ممالک ترکی کو آج تک یورپ کا حصّہ نہیں سمجھتے۔
دیکھئے ان ہی جرمنوں نے لاکھوں یہودیوں (بے گناہ مردوں، عورتوں اور بچوں) کو گیس کی بھٹیوں میں ڈال کر قتل کردیا، اس سے پیشتر ان کو فاقہ کشی پر مجبور کیا ۔ وہ بھیانک اور تکلیف دہ تصاویر آج بھی موجود ہیں۔ دوسری جنگ عظیم میں جرمنوں نے ہی لاکھوں روسی، ڈچ، فرانسیسی، انگریز، پولش، عرب قتل کردیئے۔ یہودیوں کے قتل کو Holocaust کہا جاتا ہے یعنی کسی قوم کی نسل کشی، لیکن امریکنوں کے ریڈانڈین کے قتل کو، افریقنوں کے قتل کو، جاپان پر ایٹم بم سے لاکھوں انسانوں کو مارنے کو اور آگ کے بم ٹوکیو پر گرا کر لاکھوں کو مارنے کو جنگی نقصان کہا جاتا ہے۔ جاپانی فوج نے لاکھوں چینی باشندوں کو قتل کیا، تلوار سے، اس کو قتل کہا جاتا ہے، مغربی ممالک کا بے گناہ عراقیوں کا قتل، سربوں کا بوسنیا کے مسلمانوں کا قتل ،بیگناہ افغانوں کے قتل اور اب شامی باشندوں کے قتل کو جنگی ہلاکتیں کہا جاتا ہے۔ اسرائیل کا فلسطینی مہاجرین کو بے دردی سے قتل کو جنگی اموات کہا جاتا ہے۔ اسپینی باشندوں کا جنوبی امریکہ میں قتل عام اور فلپائن میں قتل عام کا ذکر ہی نہیں ہوتا۔ مگر ترکی کے آرمینی باشندوں کے خلاف کارروائی کو نسل کشی Genocide کہا جاتا ہے۔ دیکھئے کسی عذر سے اور کسی بھی ہتھیار سے جب کسی کو قتل کرتے ہیں تو وہ قتل ہے اور ناجائز قتل ہے۔ یروشلم (بیت المقدس) کی فتح کے بعد عیسائیوں نے مسجد اقصیٰ میں 70 ہزار بیگناہ مسلمانوں کا قتل کیا، اس کا کوئی ذکر نہیں مگر 100 سال پرانا واقعہ جس میں آرمینی باشندے دشمن کے ساتھ مل کر مہمان ملک (ترکی) کے خلاف گوریلا جنگ کرکے ان کو قتل کر رہے تھے اور اس کے جواب میں مارے گئے تو وہ نسل کشی بن گیا۔ اے مسلمانوںہوش کی ہوا لو اور خدا وند کریم کے احکامات پر عمل کرو ورنہ تمہارا حشر بھی عراق، افغانستان و شام جیسا ہوگا۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں