بین الاقوامی برادری مداخلت کر کے بھارت اور پاکستان کے مابین کشیدگی کو ختم کرائے ،صدر آزاد جموں و کشمیر

مظفرآ باد ( پی ایف پی)صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ مداخلت کر کے بھارت اور پاکستان کے مابین کشیدگی کو ختم کرائے اور دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کا سبب بننے والے جموں و کشمیر کے تنازعہ کو حل کرانے میں اپناکردار ادا کرے ۔

الجزیرہ ٹیلی ویژن کو دیئے گئے انٹرویو میں صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ جنوبی ایشیاء کے دو ایٹمی ملکوں کے درمیان ممکنہ جنگ خطے کے تمام ممالک اور عالمی امن و سلامتی کے لیے بہت بڑاخطرہ ہے جسے ٹالنے کے لیے عالمی برادری کو بھرپور کوششیں کرنا ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی طرف سے کشمیری عوام کو اُن کا پیدائشی اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حق خود خود ارادیت دینے سے بھارت کا انکار اور کشمیر کے مقبوضہ حصے میں بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی پامالی بھارت اور پاکستان کے درمیان تناؤ کی سب سے بڑی وجہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور جموں و کشمیر کے عوام نے کشیدگی خاص طور پر بھارت کی طرف سے جنگ کی دھمکیوں کے بعد ہمیشہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے رجوع کیا کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ علاقائی اور عالمی امن کو بر قرار رکھنا سلامتی کونسل کی بنیادی ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری ہے الجزیرہ ٹی وی کی طر ف سے پوچھے گئے

ایک سوال کے جواب میں صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ پلوامہ واقعہ کے بعد بھارتی حکومت نے پاکستان کو دھمکیاں دینے ، کشمیری عوام پر مظالم اور انہیں دہشت گرد کے طور پر پیش کرنے کا جو سلسلہ شروع کیا اُس کے نتیجہ میں دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی انتہا کو پہنچ گئی اور بھارت کی طرف سے یہ سب کچھ آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکمرانوں کا غیر ذمہ دارانہ طرز عمل ایٹمی صلاحیت رکھنے والے دو ملکوں کو ایٹمی تصادم کی طرف لے جا سکتا ہے جسے روکنا عالمی برادری خاص طور پر اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پلوامہ واقعہ کے بعد بھارت نے ایک جانب پاکستان کو ڈرانے اور دھمکانے کا سلسلہ شروع کیا اور دوسری جانب اسے سفارتی طور پر تنہا کرنے کی کوششیں کی لیکن وہ اس میں ناکام رہا ۔ ہم بھارت سے کہتے ہیں کہ اگر پلوامہ واقعہ میں پاکستان کے ملوث ہونے کے اس کے پاس کوئی ثبوت ہے تو وہ اس کی بین الاقوامی تحقیقات کرائے لیکن یہ تحقیقات صرف پلوامہ تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں کشمیریوں کو شہید کرنے ، ہزاروں کو زخمی اور معذور کرنے ، نوجوانوں کو بینائی سے محروم کرنے اور خواتین کی عزت و حرمت کا تا ر تار کرنے کے سینکڑوں واقعات کی بھی تحقیقات ہونی چاہیے ۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کو پبلک سیفٹی ایکٹ اور آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ جیسے کالے قوانین مسائل کی جڑ ہے جن کے تحت فوج کسی قانون اور عدالت کے سامنے جوابدہ نہیں ہے ۔ ایک اور سوال کے جواب میں صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ بھارت کی طرف کراس ایل او سی تجارت کو معطل کرنے کے آزاد کشمیر اور پاکستان پر کوئی اثرات نہیں پڑیں گے ۔ انہوں نے کشمیر کے دو منقسم حصوں کے درمیان تجارت کا بنیاد ی مقصد اعتماد سازی کے عمل کو آگے بڑھانا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ دراصل اہل کشمیر کا مطالبہ تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر بھارت کے خلاف اقتصادی اور تجاری پابندیاں لگائی جائیں اور اس کا معاشی مقاطع کیا جائے لیکن بھارت خود ہی قاتل ، خود ہی مدعی اور خود منصف بننے کا ڈرامہ رچا کر کہتا ہے کہ پاکستان اور کشمیری بُرے ہیں لہٰذا ان کے خلاف تجارتی پابندیاں لگا دو۔

صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت کی حکمران جماعت بھارتی جنتا پارٹی پورے ہندوستان میں مذہبی تعصب ، انتہا پسندی اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلا کر ہندو اکثریت کے زور پر کشمیریوں کو سزا اور پاکستان کو تنہا کرنے کی مہم شروع کئے ہوئے ہیں اور یہ سب کچھ انتخابات جیتنے کے لیے کیا جا رہا ہے ۔ ایک اور سوال کے جواب میں صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ بھارت کی طرف سے جنگ کی دھمکیوں کے بعد آزاد کشمیر کے عوام میں سخت غم و غصہ اور اشتعال پایا جاتا ہے اور وہ بھارت کو موثر جواب دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ یہ ایک ایسی صورتحال ہے جو ہمیں جنگ کی طرف لے جا سکتی ہے اور اگر ایسا ہوا تو اس کی ذمہ داری بھارت پر عائد ہو گی

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں