بین الاقوامی برادری بھارت کی لائین آف کنٹرول کی خلاف ورزی اور بھارت کے جنگی جرائم کا نوٹس لے۔ صدر آزادکشمیر

مقبوضہ کشمیر میں جماعت اسلامی پر پابندی کے بھارتی اقدامات قابل مذمت ہیں۔بھارت نے لائین آف کنٹرول کو شہریوں کی قتل گاہ بنا دیا
سرینگر اسلام آباد بہج بہارہ ، کپواڑہ اور ہندواڑہ میں شہادتوں اور فوجی کارروائیوں کی شدیدمذمت ۔ صرف فروری میں تیس کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا

اسلام آباد (پی ایف پی) آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے مقبوضہ کشمیر میں جماعت اسلامی پر پابندی کے بھارتی اقدامات کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت کی نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی چھاپے مار کرجماعت اسلامی کے کارکنوں اور حریت پسند رہنماؤں کو ہراساں کر رہی ہے۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کے خیر سگالی کے اقدامات کا مثبت جواب دینے کے بجائے جنگی جنون کو ہوا دی ہے اور لائن آف کنٹرول کو آزادکشمیر کے شہریوں کے لئے قتل گاہ بنا دیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بین الاقوامی برادری ہندوستان کی لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں اور مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے جنگی جرائم کا فوری نوٹس لے اور بھارت پر مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی ختم کرنے کے لئے اقدامات کرے۔
ان خیالات کا اظہار صدر آزادکشمیرسردار مسعود خان نے امیر جماعت اسلامی آزادکشمیر خالد محمود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ جنہوں نے ایک وفد کی سربراہی میں ان کے ساتھ ملاقات کی۔
امیر جماعت اسلامی خالد محمودنے صدر آزادکشمیر کو بتایا کہ مقبوضہ کشمیر میں جماعت اسلامی پر امن اور سیاسی ذرائع سے حق خودارادیت کے لئے جدوجہد کرتی ہے اور کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق کی تحفظ کا مطالبہ کرتی ہے اس کے باوجود بھارتی افواج نے جماعت اسلامی کے تمام دفاتر بند کئے ہیں ان کے کارکنوں کو گرفتار کیا ہے اور ان کے زیر انتظام چلنے والے سکولوں کو بھی بندکر دیا ہے۔ پلوامہ واقعہ کے بعد پورے مقبوضہ کشمیر کے اوپر بربریت اور ریاستی دہشت گردی کی ایک نئی لہر کا آغاز ہوا ہے جس میں گولیوں ، پیلٹ گن اور آنسو گیس کا وحشیانہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ اب تک لگ بھگ سو کے قریب کشمیریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور پچاس گھروں کو تباہ کر دیا گیا اور کئی خواتین کی بے حرمتی کی گئی ہے۔ امیر جماعت اسلامی خالد محمود نے صدر آزادکشمیر کو گیارہ مارچ کو ایک کل جماعتی کشمیر کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔
صدر آزاد کشمیر نے سرینگر اسلام آباد بہج بہارہ ، کپواڑہ اور ہندواڑہ میں شہادتوں اور فوجی کارروائیوں کی شدیدمذمت کی ۔ انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ صرف فروری کے مہینے میں تیس کشمیریوں کو شہید کیا گیا ہے۔
دوسری طرف بھارت نے لائن آف کنٹرول پر بھاری اسلحہ سے فائرنگ اور گولہ باری کے ذریعے سویلین آبادی کو نشانہ بنایا ہے اور پوری لائن آف کنٹرول کو میدان جنگ میں تبدیل کر دیا ہے اور چن چن کر شہری آبادی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جس میں اب تک کئی شہادتیں ہو چکی ہیں۔ کوٹلی ، نکیال ،تتہ پانی ، پانڈو اور سماہنی کے مقام پر کئی شہری شہید ہوئے ہیں۔ تین مارٹر گولے نکیال تحصیل ہیڈ کوارٹر میں آکر گرے ۔ سینکڑوں خاندان اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گے ہیں۔ حکومت آزادکشمیر اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے فوری اقدامات کر رہی ہے اور متاثرین کو معاوضے دینے کے لئے بھی متحرک ہے۔
سردار مسعود خان نے کہا کہ پلوامہ واقعہ کے بعد رونما ہونے والے واقعات کی وجہ سے خطے میں کشیدگی بڑھی ہے لیکن ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر بین الاقوامی سطح پر اجاگر ہوا ہے اور بین الاقوامی برادری کو اس بات کی آگاہی ہوئی ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر جنوبی ایشیاء میں بلکہ پورے خطے میں امن و سلامتی ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل پر زور دیا کہ وہ کشمیریوں کے حق خودارادیت اور خطے میں امن و سلامتی کے قیام کے لئے اپنی کوششیں تیز تر کریں۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں