بھارت کی آبی جارحیت ، سندھ طاس معاہدے ختم کرنے کی دھمکی، دریائے سندھ کا پانی روکا جا سکتا ہے

معاہدے باہمی اعتماد پر آگے بڑھتے ہیں۔بھارتی کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے دھمکی دے دی

نئی دہلی(پی ایف پی) بھارت کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے پاکستان کے ساتھ کیے گئے سندھ طاس معاہدے کو ختم کرنے کا اشارہ دے دیا ہے جس کے بعد بھارت پاکستان کے دریائے سندھ کے پانی کو بھی روکنے کے منصوبے پر کام شروع کر دے گا ۔گذشتہ روز جب پاکستان کے وزیراعظم میاں نوازشریف کی جنرل اسمبلی میں کی گئی تقریر اور اڑی حملے کے حوالے سے ان سے سوال کیا گیا کہ کیا بھارت پاکستان کے ساتھ کیے گئے سندھ طاس معاہدے کو ختم کرنے جارہا ہے تو وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اس طرح کے معاہدے دو طرفہ اچھے تعلقات کی بنیاد پر ہی آگے بڑھتے ہیں یہ کوئی یک طرفہ معاملہ نہیں ہے بلکہ دونوں ملک اگر ایک دوسرے کے اعتماد پر پورا اتریں گے تو معاہدہ چلے گا۔پاکستان اور بھارت کے درمیان یہ معاہدہ 1960میں ہوا تھا جس کے تحت تین مشرقی دریاﺅں بیاس، راوی اور ستلج کے پانی پر بھارت کا کنٹرول تسلیم کیا گیا تھا جبکہ جہلم چناب اور سندھ پاکستان کے حصے میں آئے تھے۔ اس معاہدے میں یہ بات شامل کی گئی تھی کہ بھارت دریائے سندھ کا 20فیصد پانی آبپاشی ،ٹرانسپوٹ اور بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کرنے کا مجاز ہو گا۔ اگر بھارت نے دریائے سندھ کے پانی کو روک لیا تو پاکستان شدید ترین دباﺅ کا شکا رہو جائے گا کیونکہ پاکستان کی آبپاشی اور بڑے شہروں میںپانی کی سپلائی دریائے سندھ کے ساتھ وابستہ ہے

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں