بھارت نے کشمیری اخبارکشمیر ریڈرپر پابندی لگادی

سری نگر(پی ایف پی) بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی انتظامیہ نے متنازع علاقے میں عوام کو پُرتشدد کارروائیوں کیلئے اکسانے کا الزام لگاتے ہوئے ایک مقامی اخبار کی اشاعت پر پابندی لگادی، جسے کشمیریوں نے مسترد کردیا ہے۔

غیر ملکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ہندوستان کی انتظامیہ کے جاری حکم نامے کے بعد کشمیر کا مقامی انگریزی روزنامہ ‘کشمیر ریڈر’ مسلسل دوسرے روز ‘منگل’ کو بھی شائع نہ ہوسکا۔
kashmir-reader
پولیس کی جانب سے اخبار کے دفتر کو فراہم کیے گئے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اخبار کے مندرجات ‘ایسی نوعیت کے ہیں جو ریاست میں تشدد پر اُکسانے اور حالات کے خراب ہونے کا سبب بن سکتے’۔

تاہم اخبار کے ایڈیٹر ہلال میر کا کہنا تھا کہ ان کے اخبار کو اس حوالے سے پیشگی اطلاع یا نوٹس نہیں دیا گیا تھا تاکہ وہ اس حوالے سے اخبار کا مؤقف بھی پیش کرسکتے۔

جموں اور کشمیر میں سب سے زیادہ شائع ہونے والے اخبار ‘کشمیر ریڈر’ نے منگل کے روز اپنے ایڈیٹوریل میں کہا کہ حکومت کی جانب سے حالیہ پابندی کا مقصد پریس کے خلاف ‘سخت اقدامات اٹھانا’ ہیں۔

رواں سال جولائی میں بھی ہندوستان نے مقامی کشمیری اخبارات پر 3 روز کیلئے اشاعت کی پابندی لگادی تھی تاکہ بھارت مخالف مظاہروں کے حوالے سے خبریں یا اطلاعات وادئ سے باہر نہ جاسکیں۔

ادھر حکام کا کہنا ہے کہ حکومت کے اس اقدام کا مقصد لوگوں کی جانیں بچانا اور امن کی کوششوں کو مضبوط کرنا ہے، تاہم مقامی اخبارات کے ایڈیٹرز نے پابندی کی مزمت کی ہے۔

گذشتہ روز کشمیر کے حریت رہنماؤں نے ‘کشمیر ریڈر’ پر ہندوستان کی حکومت کی جانب سے لگائی جانے والی پابندی کو مسترد کرتے ہوئے اسے آزادی اظہار رائے پر پابندی قرار دیا تھا۔

کشمیر کے مقامی میڈیا کے مطابق وادئ میں ہندوستانی فورسز کی گذشتہ 88 روز سے جاری کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے کشمیریوں کی تعداد 107 ہوگئی ہے۔

واضح رہے کہ 8 جولائی کو برہان مظفر وانی کی ہلاکت کے بعد سے کشمیر میں حالات کشیدہ ہیں اور ہندوستانی فورسز کی فائرنگ سے 107 سے زائد کشمیری ہلاک اور 10 ہزار سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔

وادئ بھر میں 88 روز سے کرفیو بھی نافذ ہے جبکہ ہندوستانی فورسز کی جانب سے استعمال کیے جانے والی پیلیٹ گنز کی وجہ سے سیکڑوں کشمیری نوجوان بینائی سے محروم ہوچکے ہیں جبکہ ہندوستانی فورسز کی جانب سے کشمیری عوام کی املاک اور دیگر ضروریات زندگی کی اشیا کو نقصان پہنچانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں