آزادکشمیر انتخابات مسلم لیگ سب سے بڑی پارٹی. 32‌نشستیں

پیپلزپارٹی کے بڑے بڑے برج الٹ گئے، بیرسٹر سلطان محمود بھی ہار رہے ہیں۔عبدالمجید جیت رہے ہیں
سردار عتیق احمد خان جیت چکے ہیں، سردار خالد ابراہیم راولاکوٹ سے جیت چکے ہیں، سرگالہ کے بیٹے کو بری طرح شکست ہوئی ہے

لاہور(خالد منہاس سے) آزادکشمیر کے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ نے کلین سویپ کر لیا اور حکمران جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کے بڑے بڑے برج الٹ چکے ہیں،صرف میرپور سے چوہدری عبدالمجید جیت رہے ہیں، سنئیر وزیر یسین چوہدری ہار چکے ہیں، قمرالزمان بھی اپنی نشست سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ جاوید بڈھانوی بھی نکیال سے اپنی نشست نکالنے میں کامیاب نہیں ہو سکے بلکہ وہاں سے آزادکشمیر کے سابق وزیراعظم اور سابق صدر کے بیٹے کامیاب ہو چکے ہیں۔ آزادکشمیر کے صدر حاجی محمد یعقوب کی نشست پر ان کی بیٹی کامیاب نہیں ہو سکی بلکہ وہاں سے بزرگ سیاستدان اور آزادکشمیر کے بانی صدر سردار ابراہیم کے بیٹے سردار خالد ابراہیم واضح اکثریت کے ساتھ جیت رہے ہیں۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کے صدر بیرسٹر سلطان محمو د بھی میرپور سے ایک نوآموز امیدوار سے بری طرح ہارچکے ہیں۔مسلم لیگ ن کے چودہری سعید نے بیرسٹر سلطان محمود کو 2500ووٹوں سے شکست دی ہے۔ ایل اے 33جموں چار سے نارووال سے چوہدری محمد حسین سرگالہ کے بیٹے اکمل سرگالہ بری طرح ہار گئے ہیں اور وہاں سے مسلم لیگ ن کے امیدوار یاسر میاں رشید کامیاب ہو چکے ہیں۔ یاسر رشید نے 27ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیے ہیں جبکہ اکمل سرگالہ کو 19864ووٹ ملے ہیں۔ لاہور سے ویلی کی سیٹ پر پی ٹی آئی کے دیوان غلام محی الدین جیت گئے ہیں جبکہ مسلم لیگ کے امیدوار دوسرے نمبر پر تھے۔باغ سے سنئیر صحافی اور اینکر پرسن مشتاق منہاس جیت رہے ہیں۔ مسلم کانفرنس کے سردار عتیق احمد خان بھی اپنی نشست نکالنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔جے کے پی پی ایک نشست جیت چکی ہے جبکہ دوسری نشست پر بھی خیال ہے کہ اس کا میدوار جیت جائے گا۔ ابھی تک حتمی نتائج موصول نہیں ہوئے مگر مسلم لیگ ن کو آزادکشمیر اسمبلی میں  32 کے قریب نشستیں حاصل ہو جائیں گی اور وہ آسانی سے اپنی حکومت بنا سکے گی۔
اراکین کے چناؤ کے لیے پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی جو بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہی جس کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل مکمل ہونے کے بعد اب نتائج آنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے ۔نتظامیہ کی جانب سے انتخابات کے لیے 5429 پولنگ اسٹیشنز اور 8048 پولنگ بوتھ قائم کیےگئے جب کہ الیکشن کمیشن کا مرکزی کنٹرول روم مظفر آباد میں قائم کیا گیا۔ انتخابات کے لیے 37 ہزار500 سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے، ہر پولنگ اسٹیشن کے اندر ایک فوجی اہلکار بھی تعینات تھا جسے مجسٹریٹ کے اختیارات دیئے گئے۔ حساس پولنگ اسٹیشنز پر 6 پولنگ سیکیورٹی اہلکار جب کہ نارمل پولنگ اسٹیشنز پر 4 اہلکاروں کو تعینات کیا گیا جن میں پاک فوج کا ایک جوان بھی شامل تھا۔

آزاد کشمیر میں کئی پولنگ اسٹیشنز پر سیاسی جماعتوں کے کارکنوں میں ہاتھا پائی ہوئی جب کہ حویلی میں پولنگ اسٹیشن کے باہر ہوائی فائرنگ کرنے والے شخص کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔ میرپور میں ڈھڈیال روڈ پر ووٹ ڈالنے کے لیے لائن میں کھڑا شخص دم گھٹنے سے جاں بحق ہوگیا۔ اس کے علاوہ برنالہ کے علاقے جنڈ پیرا میں چیف جسٹس آزاد کشمیر جسٹس سعید بغیر شناختی کارڈ کے ووٹ کاسٹ کرنے پہنچے تو انییں ووٹ کاسٹ کرنے نہیں دیا گیا جب کہ برنالہ میں ہی جعلی ووٹ ڈالنے کی کوشش کرنے والے 4 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔آزاد کشمیرقانون ساز اسمبلی میں نشستوں کی تقسیم:

آزاد کشمیر کی اسمبلی 49 اراکین پر مشتمل ہوتی ہے۔ ان نشستوں کی تقسیم کچھ یوں ہے کہ پہلی 29 نشستوں پر آزاد کشمیر کے 26 لاکھ 74 ہزار 584 ووٹرز اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں جب کہ 12 نشستوں پر پاکستان میں موجود 4 لاکھ 38 ہزار 884 کشمیری مہاجرین حق رائے دہی استعمال کرتے ہیں۔ 8 نمائندے مخصوص نشستوں سے آتے ہیں جن میں 5 خواتین، ایک عالم دین، ایک اوورسیز پاکستانی اور ایک ٹیکنوکریٹ کی نشست ہوتی ہے۔ وزیراعظم اس پارٹی یا اتحاد کا بنے گا جس کے پاس سادہ اکثریت یعنی کم از کم 25 سیٹیں ہوں گی۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں