براہمداخ بگتی کی سیاسی پناہ کی درخواست بھارتی وزارت داخلہ کو موصول، غور شروع

سیاسی پناہ کا کوئی قانون موجود نہیں، 1959میں دلائی لامہ کو جو پناہ دی گئی تھی وہ وزیراعظم نہرو کا سیاسی فیصلہ تھا
سیاسی پناہ کے لیے کاغدی کارروائی ضروری ہے تاہم براہمداخ بگتی کو طویل المدت ویزہ دیا جا سکتا ہے۔بھارتی حکام

نئی دہلی (پی ایف پی)بلوچ جلاوطن لیڈر براہمداخ بگتی کی بھارت میں سیاسی پناہ کی درخواست بھارتی حکومت کو موصول ہو گئی ہے اور اس پر غور شروع کر دیا گیا ہے۔ وزارت داخلہ کے ذرائع نے تصدیق کر دی ہے کہ آج اسے براہمداخ بگتی کی سیاسی پناہ کی درخواست مل گئی ہے ۔ تین روز قبل براہمداخ بگتی نے جینیوا میں بھارتی قونصل خانے میں سیاسی پناہ کے لیے باقاعدہ درخواست دی تھی جسے تونصلیٹ نے فوری طور پر وزارت خارجہ کو ارسال کیا اور تین ہی روز میں یہ درخواست وزارت داخلہ کو دے دی گئی ہے۔بھارت کے پاس سیاسی پنا ہ کی کوئی واضح پالیسی موجود نہیں ہے تاہم اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں 6480افراد نے سیاسی پناہ کی درخواستیں دے رکھی ہیں لیکن حکومت کی جانب سے اس حوالے سے کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا۔ صورتحال اس قدر گھمبیر ہے کہ وزارت داخلہ 1959کے ریکارڈ کا جائزہ لے رہی ہے کہ اس وقت کس طریقے سے بھارتی حکومت نے تبت کے روحانی رہنما دلائی لامہ کو سیاسی پناہ دی تھی۔ دلائی لامہ کی سیاسی پناہ کی درخواست کو وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے منظور کر لیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت حکومت نے دلائی لامہ کو سیاسی پناہ دینے کا فیصلہ سیاسی سطح پر کیا تھا مگر براہمداخ بگتی کو کس طرح سیاسی پناہ دی جائے اس کے لیے ایک فریم ورک اور کاغذی کارروائی کی ضرورت ہے۔ بھارت کے کسی قانون میں مہاجر کے لیے بھی کوئی شق موجود نہیں ہے۔ واضح رہے کہ بھارت نے 1951میں مہاجرین کے حوالے سے کنونشن پر بھی دستخط نہیں کیے تھے۔حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ انہیں کس قانون کے تحت سیاسی پناہ دی جائے گی تاہم یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ براہمداخ بگتی کو لانگ ٹرم ویزہ دے دیا جائے۔ یہ سہولت بھار تی حکومت نے بنگلہ دیش کی بدنام زمانہ مصنفہ تسلیمہ نسرین کو بھی دی رکھی ہے۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں