ایک وضاحت جو ضروری ہے….ڈاکٹر صفدر محمود

ایک وضاحت جو ضروری ہے….ظاہری اور باطنی حسن….ڈاکٹر صفدر محمود
امجد صابری درویش صفت انسان اور عاشق رسولﷺ تھا۔ اس کا لہجہ، انداز، مستی اور قوالیاں عشق رسولﷺ کا نور پھیلاتی تھیں اور دلوں کو گرماتی تھیں۔ ایسے معصوم انسان کو کیوں شہید کیا گیا اور کن سنگدلوں نے یہ گھنائونا جرم کیا؟

سچی بات یہ ہے کہ امجد صابری کی شہادت سارے ملک کو مغموم کرگئی اور صدمے کا زخم لگا گئی۔ اتنا بڑا جنازہ کہ یوں لگتا تھا جیسے کراچی شہر امنڈ آیا ہے۔ عاشقوں کی یہی شان اور یہی آن ہوتی ہے۔ عاشق رسولﷺ دنیا میں بھی سرخرو اور آخرت میں بھی سرخرو۔ صابری کی شہادت سے قبل سندھ کے چیف جسٹس کے بیٹے کا دن دہاڑے اغوا احساس عدم تحفظ کو مہمیز لگا گیا۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ جیسے اب ملک میں کشت و خون کا سلسلہ شروع ہونے والا ہے۔ حکومت طویل عرصے تک غیرمستحکم اور کمزور رہے گی۔ بدامنی پھیلے گی۔ میری دعا ہے کہ اللہ پاک اس خدشے کی نفی کردیں اور ملک و قوم کو اپنے حفظ و امان میں رکھیں۔
اب اجازت دیجئے کہ ایک چھوٹی سی وضاحت آپ کی خدمت میں پیش کروں۔ یقین کیجئے اس کا مقصد نہ کسی بحث میں الجھناہےاور نہ ہی اس کا تعلق پسند و ناپسند سے ہے۔ مقصد محض ایک غلط فہمی کا ازالہ ہے۔ تاریخ میں ہے کہ استعماری قوتیں نصاب اور تعلیم کو اپنے مفادات کے حصول کےلئے استعمال کرتی ہیں اور اس ہتھیار سے دوررس نتائج حاصل کرتی ہیں۔ برطانوی استعمار نےاپنی کالونیوں میں یہی کیا اور امریکی حکومت نے بھی افغانستان میں اسی پالیسی پر عمل کیا۔ یاسر پیرزادہ ایک ذہین نوجوان ہیں اور کالم نگاری کےمیدان میں اپنا مقام بنا چکے ہیں۔ میرے لئے وہ کئی حوالوں سے عزیزم اور محترم ہیں۔ ان کے کالم ’’دوٹوک نصاب‘‘ سے ایک غلط تاثر پیدا ہوااور مجھے اسکول ایجوکیشن سے وابستہ چند ایک اساتذہ نے فون کرکے حیرت کا اظہار کیا کہ ہم 80 کی دہائی میں طالب علم تھے اور اب استاد ہیں، ہم نے نہ یہ نصاب پڑھا اور نہ ہی پڑھایا جس کا ذکر ’’دوٹوک نصاب‘‘ میں کیا گیا ہے۔ میرے نزدیک یہ ایک قومی اور علمی مسئلہ تھا اس لئے وضاحت ضروری تھی۔ نصاب پر اعتراضات ماہرین تعلیم کا حق ہے اور نصاب میں بہتری کی گنجائش ہمیشہ موجودرہتی ہے۔ میرا ان اعتراضات سے تعلق نہیں اگرچہ مجھے علم ہے کہ بعض دانشوروں کو ہمارے نصاب میں پاکستان کی نظریاتی اساس، پس منظر اور قائداعظمؒ کے نظریات پر بھی اعتراضات ہیں کیونکہ وہ ایسے مکتبہ ٔ فکر سے تعلق رکھتے ہیں جو نظریاتی اساس اور دینی فیکٹر کے خلاف ہے۔ اس کالم کا ان مباحث سے بھی تعلق نہیں کیونکہ میرا مقصد صرف یہ وضاحت کرناہے کہ امریکی حکومت نے نبراسکا یونیورسٹی سے لاکھوں ڈالر خرچ کرکے جو سلیبس بنوایا تھا وہ صرف اور صرف افغانستان اور پاکستان میں افغان مہاجرین کے کیمپوں میں قائم کردہ اسکولوں کے لئے تھا۔ یہ سلیبس نہ پاکستان کےلئے تھا اور نہ ہی اسے ہمارے اسکولوں میں پڑھایا گیا چنانچہ عزیز محترم یاسر پیرزادہ صاحب نے اپنے 22جون والے کالم میں جو ضمنی سوالات اٹھائے ہیں اور جن کا تعلق اس موضوع سے نہیں، میں ان سے صرف ِ نظر کروں گا۔ نصاب میں بہتری صوبائی حکومتوں اور وفاقی حکومت کا فرض ہے اور میرے علم کےمطابق اس پر ہمیشہ کام جاری رہتا ہے۔ عزیز محترم یاسرپیرزادہ نے اپنے یکم جون والے کالم ’’دوٹوک نصاب‘‘ میں لکھا تھا ’’ب سے کیا بنتا ہے، بم۔ ت سے کیا بنتا ہے ،توپ۔ ک سے کیا بنتا ہے، کلاشنکوف۔ خ سے کیا بنتا ہے، خون…… جب ہم نے خود کو افغان جنگ میں جھونک لیا تھا تو پرائمری کےبچوں کو سات کا ہندسہ دکھا کے سمجھایا جاتا جس میں سات خرگوش کلاشنکوف سے اندھا دھند فائرنگ کرکے دشمنوں کو خون میں لت پت کرتے نظر آتے۔ یہ وہ نصاب تھا جو ہم نے اپنے بچوں کو کچی عمر میں پڑھایا اور جنگ کے بیج ان کے ذہنوں میں اس وقت بو دیئے جب ان کی عمر کھلونوں سے کھیلنے کی تھی۔ اس نصاب کی تشکیل میں امریکہ ہمارے شانہ بشانہ کھڑا تھا۔ یونیورسٹی آف نبراسکا نے 50ملین ڈالر کےایک پروگرام کے تحت یہ نصابی کتب تیار کیں اور ہم نے کمیونزم کے خلاف جنگ جیتنے کے لئے اپنی ایک پوری نسل کو جہنم کی ایسی بھٹی میں جھونک دیا جس میں آنےوالی نسلیں اب تک جھلس رہی ہیں۔ کون سی نفرت ہے جو ختم ہونے میں نہیں آتی۔ حیران ہونے کی بجائے اس زمانے کے نصاب پر ایک نظر ڈالیں تو تمام سوالوں کا جواب مل جائے گا۔‘‘
میرامقصد کسی بحث میں الجھنانہیں بلکہ غلط فہمی کا ازالہ ہے۔ نفرت، انتہاپسندی، کشت و خون وغیرہ وغیرہ کا پرچارکرنے والا نصاب جسے نبراسکا یونیورسٹی نے تشکیل دیا وہ صرف افغانستان کے طالب علموں کے لئے تھا اور اس کا پاکستانی نظام تعلیم سے نہ کوئی تعلق تھا اور نہ ہی ایسے قاعدے کبھی یہاں پڑھائے گئے۔ ویب سائٹ پر جائیں تو کنفیوژن جنم لیتا ہےکیونکہ عنوان میں یہ سلیبس برا ئےافغانستان و پاکستان لکھا ہے لیکن تفصیل پڑھیں تو واضح ہو جاتا ہے کہ یہ قاعدے صرف افغان مہاجرین کیمپوں کے اسکولوں میں پڑھائے جانے تھے۔ ویسے بھی امریکی حکومت کے یہ تیار کردہ قاعدے دری اور پشتو زبان میں چھاپے گئے تھے۔ انگریزی اخبار ’’ڈان‘‘ نے 30 جولائی 2013 کو اس موضوع پر تفصیلی اسٹوری شائع کی تھی اور وہی مثالیں دی تھیں جو عزیز محترم نے اپنے کالم میں دیں۔ اس تحقیقی رپورٹ میں ’’ڈان‘‘ نے واضح کیا تھا کہ یہ نصاب اور قاعدے صرف افغان طلباوطالبات کے لئے چھاپے گئے تھے۔ واشنگٹن پوسٹ نے بھی 23مارچ 2002 کو اپنی ایک رپورٹ میں اس سلیبس اور قاعدوں پر روشنی ڈالی تھی اور نبراسکا یونیورسٹی کو بدنام یونیورسٹی اور 50ملین ڈالر کے خرچ کو امریکی ٹیکس دہندگان کے ساتھ زیادتی قرار دیاتھا۔ واشنگٹن پوسٹ نے بھی واضح کیا تھا کہ یہ نصاب افغان تعلیم کا حصہ تھا اور فروری 2002 میں دوبارہ افغان ماہرین تعلیم کو اکٹھاکرکے نئے قاعدے لکھوائے گئے جن سے انتہاپسندی، قتل و غارت ، بندوق، رائفلز کا ذکر نکال کر ان میں احترام انسانیت، انسانی حقوق اور اسلامی تعلیمات کے بنیادی اصولوں کا اضافہ کیا گیا۔ کیونکہ اب امریکی حکومت کی ضروریات بدل چکی تھیں۔ اب ذرا 1980کی دہائی میں پنجاب ٹیکسٹ بک کے شائع کردہ قاعدوں کی جھلک دیکھ لیجئے۔ اپریل 1980کا اردو کا قاعدہ برائے پہلی جماعت کے مصنفین میں سید وقار عظیم، ڈاکٹر اصغر علی شیخ، مقبول بیگ بدخشانی، نذیر احمد آثم، بشیر احمدچوہان، محمد اسحاق جلالپوری کےنام شامل تھے۔ ان قاعدوں میں ’’الف‘‘ سے انار، ’’ب‘‘ سے بکری ۔ ’’ت‘‘ سے تختی، ’’خ‘‘ سے خط اور ’’ک‘‘ سے کتاب پڑھائی جاتی تھی۔
مارچ 1984 میں چھپنے والے قاعدوں میں ’’خ‘‘ سے خط کو ختم کردیا گیا اور خرگوش میں تبدیل کردیا گیا۔
ریاضی میں بھی یہی صورتحال تھی۔ ’’عملی ریاضی‘‘ برائے جماعت اول (ایڈیشن 1985) میں ایک (1) سے نو (9) تک گنتی سکھائی گئی ہےتو وہاں ایک کےہندسے کے سامنے ایک بس کی تصویر دی گئی ہے، دو کے ہندسے کے سامنے دوگیندیں دی گئیں، تین کے ہندسے کے سامنے تین کاریں، چار کے ہندسے کے سامنے چار کتابیں، پانچ کے ہندسے کے سامنے پانچ آم، چھے کے ہندسے کے سامنے چھے پین، سات کے ہندسے کے سامنے سات بلیاں، آٹھ کے ہندسے کے سامنے آٹھ کپ، نو کے ہندسے کے سامنے نو دیے۔ جہاں کسی بھی ہندسے کے سامنے کہیں بھی خرگوش نہ تھے جو کلاشنکوف تھامے اندھا دھند فائرنگ کر رہے ہوں۔ دوسری جماعت کی عملی ریاضی (ایڈیشن 1982) میں جمع تفریق کا تصور مثالوں کےذریعے سکھایا گیا ہے جن چیزوں کی مثالیں دی گئی ہیں ان کی تصاویر بھی سامنے دی گئی ہیں۔ صفحہ نمبر 55 پر دو ہندسی اعداد کی تفریق کے تصور کو ’’گولیوں‘‘ کے ذریعے سمجھایا گیاہے۔ لیکن یہ وہ گولیاں نہیں جو دہشت گرد چلاتے ہیں بلکہ وہ دو گولیاں ہیں جو بچے بہت شوق سے کھاتے تھے جنہیں ہمیں ’’کینڈی‘‘ بھی کہتے ہیں۔ ضمناً عرض کرتا ہوں کہ تاریخ پاکستان کی جس کتاب کا حوالہ دے کر غیرمسلموں کے بارے میں نفرت انگیز مواد کا ذکر کیا جاتا ہے وہ کسی سرکاری ٹیکسٹ بورڈ کی کتاب نہیں بلکہ کسی پرائیویٹ پبلشر کی چھاپی گئی گائیڈ بک ہے۔ حکومت کو ایسے نفرت انگیز مواد کا نوٹس لینا چاہئے۔ بہرحال غلط فہمی کے ازالے کے لئے میں نے اپنی معروضات پیش کردیں۔ آئندہ نئے موضوعات پرطبع آزمائی ہوگی۔ انشااللہ

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں