این اے 110 میں دھاندلی کا الزام مسترد، خواجہ آصف کے حق میں فیصلہ

سپریم کورٹ نےخواجہ آصف کے انتخابی حلقہ این اے 110سے متعلق انتخابی عذرداری کا فیصلہ سنادیا۔تحریک انصاف کے امیدوار عثمان ڈار کی اپیل مسترد کرتے ہوئےدھاندلی کے الزام بھی مسترد کردیئے۔وزیردفاع خواجہ آصف اپنی نشست کا دفاع کرنے میں کامیاب رہے۔

پی ٹی آئی کےامیدوارعثمان ڈارنےالیکشن ٹریبونل کافیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیاتھا۔ سپریم کورٹ نے دھاندلی کے الزامات مسترد کرتے ہوئے خواجہ آصف کے حق میں فیصلہ سنادیا ۔

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے انتخابی عذرداری کیسماعت کی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اسٹیٹس کو کی وجہ سے اقتدار میں رہنے والے لوگ فائدہ اٹھارہے ہیں،اس کا ثبوت یہ ہے کہ 18سال بعد بھی مردم شماری نہیں ہوسکی۔

خواجہ آصف کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اسٹیٹس کو ٹوٹنا چاہیے ، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ میری پوری زندگی میں تو یہ اسٹیٹس کو ٹوٹتا نظر نہیں آیا۔

گزشتہ روزعثمان ڈار کے وکیل بابراعوان کے دلائل مکمل ہوچکے تھے جبکہ خواجہ آصف کے وکیل فاروق ایچ نائق نے آج دلائل مکمل کیے۔

گزشتہ روز خواجہ آصف کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ عثمان ڈار جس پولنگ اسٹیشن سے جیتے، وہاں بھی دھاندلی کا الزام لگا رکھا ہے،پورے حلقے کی دھاندلی کے لیے صرف 10پولنگ اسٹیشن کےایجنٹس کو بطورگواہ پیش کیا،10گواہوں کا بیان حلفی لفظ بہ لفظ ایک جیسا ہے۔

بابر اعوان کا کہنا تھا کہ الیکشن آراوز کا تھا ،پریزائیڈنگ آفیسر نے خود ٹھپے لگائے ،الیکشن کمیشن کی رپورٹ کے مطابق جن تھیلوں میں ووٹ موجود تھے انکی سیلیں ٹوٹ چکی تھیں الیکشن میں چوری نہیں بلکہ ڈکیتی ہوئی ۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں