اٹک کے مشہور اغواء کیس کا ڈراپ سین ہو گیا

اٹک چھچھ (پی ایف پی) حضرو کے گاؤں قطب بانڈی کے مشہور اغواء کیس کا ڈراپ سین، ڈیڑھ سال قبل تاوان کیلئے اغواء ہونے والے نوجوان کی لاش برآمد، مقامی پولیس لاعلم، مقتول کو چند ماہ قتل کرکے پھینک دیا گیا تھا جسے حسن ابدال پولیس نے امانتاً دفن کر دیا تھا، عدالتی حکم پر قبر کشائی کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کی گئی، تفصیلات کے مطابق مصور ولد محمد نواز ساکن قطب بانڈی جو غورغشتی اڈہ پر کیری ڈبہ ٹیکسی کے طور پر چلاتا تھا 19-03-2015کو اغواء ہو گیا تھا جس کی رپورٹ پولیس چوکی غورغشتی میں اس کے چچا زاد بھائی جاوید ولد محبت نے درج کرائی تھی کہ میرا نوجوان چچا زاد بھائی مصور ٹیکسی چلاتا ہے گزشتہ شام روز شام 4بجے کے بعد گھر سے نکلا مگر رات گھر نہ آیا-

ہم نے اس کی تلاش شروع کی تو اس کی گاڑی تربیلہ روڈ پر کھڑی ملی جس میں مصور نہ تھا جبکہ اس کا موبائل فون نمبر بھی بند تھاہمیں شک ہے کہ اسے تاوان کیلئے اغواء کیا گیا ہے جس پر پولیس چوکی غورغشتی نے محمد اسحاق ولد نیاز خان، احسن ولد منور شاہ، عثمان ولد منور شاہ ، محمد افضل ولد مظفر خان ، محمد ریاض ولد میر عالم افتخار ولد محمد خان، سردار خان ولد سکندر کے حلاف زیر دفعہ 365مقدمہ درج کیا گیا تھا،کیس کا مرکزی کردار بابر خان ولد سجاد خان ساکن خالو غازی دو ماہ قبل گرفتار ہو چکا ہے-
دو سگے بھائی احسن شاہ ، عثمان شاہ ساکنان قطب بانڈی شروع میں ہی گرفتار کر لئے گئے تھے جبکہ باقی ملزمان تاحال فرار ہیں، دو نامزد ملزمان محمد افضل ولد مظفر خان اور محمد ریاض ولد میر عالم بے گناہ قرار پا کر ہائی کورٹ سے ضمانت کرا چکے تھے ، یہ کیس چھچھ کا مشہور کیس بن گیا تھا جس میں تفتیشی پولیس افسر سابق ایس ایچ او حضرو و چوکی انچارج غورغشتی سب انسپکٹر حاجی اعظم نے کیس کا رخ موڑ دیا تھا جس کی بناء پر سابق وزیر داخلہ کرنل(ر) شجاع خانزادہ نے انہیں ضلع بدر کرکے ملتان ٹرانسفر کر دیا تھا، مغوی و مقتول والدین کا اکلوتا بیٹا بتایا جاتا ہے-
اس حوالہ سے جب تھانہ حضرو اور پولیس چوکی غورغشتی رابطہ کیا گیا تو پولیس نے لاش کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا، تاہم ذرائع نے بتایا کہ گرفتار ملزم نے دوران تفتیش انکشاف کیا تھا کہ تاوان نہ ملنے پر ہم نے مصور مغوری کو قتل کرکے لاش جوہڑ میں پھینک دی تھی تاہم یہ لاش حسن ابدال پولیس کو ملی جسے نامعلوم قرار دیکر امانتاً دفن کر دیا تھا، حسن ابدال پولیس ریکارڈ میں تصاویر دیکھنے کے بعد لواحقین نے مقتول کو پہچان لیا جس پر سینئر سول جج کی اجازت سے قبر کشائی کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کی گئی۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں