انڈونیشیا میں بے گناہ قید پاکستانی شہری کو ڈیتھ زون میں پہنچا دیا گیا

جکارتہ(پی ایف پی)انڈونیشیا میں منشیات کے جھوٹے الزام میں سزائے موت پانے والے پاکستانی شہری ذوالفقار علی کو ڈیتھ زون میں پہنچا دیا گیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق انڈونیشین حکام نے پاکستانی شہری ذوالفقار علی سمیت 14 افراد کو سزائے موت دینے کے لئے مخصوص جزیرے نساکم بنگن پہنچا دیا ہے جہاں انھیں آج رات کو سزائے موت دے دی جائے گی۔ انڈونیشین حکام نے اقوام متحدہ اور یورپی یونین سمیت ہر قسم کا بین الاقوامی دباؤ مسترد کرتے ہوئے اپنی عدالتوں کے سزائے موت پر عمل درآمد کا فیصلہ کیا ہے اور ڈیتھ زون میں 17 ایمبولنسز بھی پہنچا دی گئی ہیں جن میں 14 تابوت بھی موجود ہیں۔

پاکستانی شہری ذوالفقار علی کی انڈونیشین نژاد اہلیہ کا کہنا ہے کہ پراسیکیوٹر نے ان سے ٹیلی فون کر کے پوچھا کہ بتائیں آپ اپنے شوہر کی لاش کہاں وصول کرنا پسند کریں گی۔ اس کے علاوہ سزائے موت پانے والے تمام افراد کے اہل خانہ کو بتا دیا گیا ہے کہ اب ملاقات کا وقت دوپہر12 بجے ختم ہو چکا ہے اور انڈونیشیا کے روحانی قونصلرز نے مخصوص لباس بھی زیب تن کر لیا ہے۔

پاکستان کے حکومتی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ انڈونیشیا میں پاکستانی سفیر نے حکام سے ملاقاتیں کیں اور اس حوالے سے تمام سفارتی کوششیں کی گئیں تاہم سفارتی و قانونی رابطوں کا کوئی جواب نہیں ملا۔ قبل ازیں پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ ہم انڈویشیا کے لیگل سسٹم پر یقین رکھتے ہیں لیکن پاکستانی شہری ذوالفقار کے معاملے میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک پاکستان کی جانب سے کی گئی درخواست کو مسترد نہیں کیا گیا اور امید کی کرن اب بھی باقی ہے۔

انڈونیشیا کے اخبار جکارتہ پوسٹ نے بھی اپنی حکومت کی جانب سے 14 معصوم اور بے گناہ لوگوں کو سزائے موت دینے کے اقدام کو انتہائی خطرناک قرار دیا ہے، رپورٹ کے مطابق انڈونیشیا کے صدر پر بے گناہ لوگوں کو سزائے موت نہ دینے کے لئے دنیا بھر سے دباؤ ڈالا جارہاہے لیکن انڈونیشین حکومت سزائے موت پر عمل درآمد روکنے کے لئے تیار نہیں ہے۔

جکارتہ پوسٹ کے مطابق ذوالفقار کو جگر کا عارضہ لاحق ہے لیکن اس کے باوجود اسے سزا دینے کی تیاری کی جا رہی ہے جب کہ ذوالفقار کو جگر کا عارضہ دوران حراست پولیس کے تشدد کی وجہ سے ہوا۔

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی انڈونیشیا کی جیل میں قید پاکستانی شہری ذوالفقارعلی سمیت سزائے موت کے دیگر 14 ملزمان کی سزا رکوانے کے لئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹرپرمہم شروع کررکھی ہے اورعوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ jokowi@ پر ٹوئیٹ کرکے انڈونیشین صدرسے سزائے موت رکوانے کی اپیل کریں۔

ذوالفقار علی سے ملاقات کرنے والے ان کے دوست جمیل نے ایکسپریس نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ملاقات میں ذوالفقار علی زاروقطار رو رہا تھا، پاکستانی سفارتخانے نے صرف تسلیاں دیں مدد نہیں کی بلکہ سفارتخانے نے تعاون کی بجائے کفن دفن سے متعلق پوچھا۔

ادھر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے انڈونیشیا سے منشیات کے مجرموں کی سزائے موت روکنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ انڈونیشیا کے صدر سزائے موت پر پابندی لگائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سزائے موت صرف سنگین جرائم پر دی جا سکتی ہے لیکن منشیات کے معاملات سنگین جرائم کے زمرے میں نہیں آتے۔ انڈونیشیا کے سابق صدر بی جے حبیبی نے بھی موجودہ صدر کو خط لکھا ہے جس میں ملزمان کی سزا روکنے کی درخواست کی گئی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نفیس ذکریا نے ذوالفقارعلی کی پھانسی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ذوالفقار علی نے عدالتی نظرثانی کے لیے 2 اپیلیں کیں، پہلی اپیل 2008میں اور دوسری 2013 میں کی گئی جب کہ امید ہے انڈونیشیئن حکومت ذوالفقار علی کی رحم کی اپیل پر انسانی بنیادوں پر غور کرے گی۔

واضح رہے کہ ذوالفقار علی لاہورکا رہائشی ہے جو 15 سال قبل روزگار کے لئے انڈونیشیا گیا تھا جہاں اس کی دوستی بھارتی شہری گردیپ سنگھ کے ساتھ ہوئی جس نے اسے ہیروئن اسمگلنگ کے مقدمے میں پھنسا دیا اور الزام لگایا کہ میرے ساتھ ہیروئن اسمگلنگ میں ذوالفقار بھی ملوث ہے جس کے بعد دونوں کو سزائے موت سنا دی گئی تھی۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں