یہ دل کا معاملہ ہے…امر جلیل

یہ دل کا معاملہ ہے…امر جلیل
میرے پاس ٹائم مشین نہیں ہے۔ ویسے بھی ٹائم مشین ابھی ایجاد نہیں ہوئی ہے۔ فی الحال ٹائم مشین تصور ہے، محض خیال ہے۔ ٹائم مشین پر فلمیں بھی بن چکی ہیں۔ ٹائم مشین آپ کو ماضی کی طرف لے جاسکتی ہے۔ آپ اپنے ماضی میں جاسکتے ہیں۔ میں بھی اپنے ماضی میں کافی دور تک جاسکتا ہوں۔ حالانکہ میرے پاس ٹائم مشین نہیں ہے۔ میرے پاس کچھ ایسی چیزیں ہیں جو مجھے بڑی آسانی سے ماضی میں لے جاسکتی ہیں۔ آپ سمجھ رہے ہونگے کہ میرے کچھ سائیکالاجسٹ دوست اس کام میں میری مدد کرتے ہونگے۔ وہ مجھے ہیپناٹائز کرنے کے بعد مجھےماضی میں بھیج دیتے ہونگے۔ اور پھرکچھ وقت کے بعد مجھے واپس بلالیتے ہونگے۔ ایسا کچھ نہیں ہے۔ سچ جانیے کہ ہیپناٹائز ہوکر ماضی میں جانے سے مجھے ڈر لگتا ہے۔ طرح طرح کے وسوسے مجھے گھیر لیتے ہیں۔ ہیپناٹائز ہوکر ماضی میں جانے کے بعد ہوسکتا ہے کہ میں واپسی کا راستہ بھول جائوں اور ہمیشہ کیلئے اپنے ماضی میں کھو جائوں۔ عین اسی طرح کے ایک واقع کا میں چشم دید گواہ ہوں۔ نفسیات کے ڈاکٹروں نے ہمارے دوست عبدالودود کو ہیپناٹائز کرنے کے بعد ماضی میں بہت دور تک بھیج دیا تھا۔ لگاتار پیچھے جاتے ہوئے وہ دلی جا پہنچا تھا۔ عبدالودود اپنے والدین کے ساتھ ہجرت کرکے کراچی آیا تھا۔ اس وقت عبدالودود کی عمر بارہ برس کی تھی۔ این جے وی ہائی اسکول کراچی میں ہم کلاس میٹ ہوئے تھے اور کراچی یونیورسٹی سے اقتصادیات میں ایم اے کرنے کے بعد عملی دنیا میں ایک ساتھ داخل ہوئے تھے۔ طالب علمی کے زمانے میں ایوب خان کی آمریت کے خلاف کراچی کے گلی کوچوں میں لڑتے ہوئے ہم پولیس کے ہاتھوں خوب پٹتے تھے۔ مگر بغاوت سے باز نہیں آتے تھے۔ مرحوم فتحیاب علی خان ہمارے اسٹوڈنٹ لیڈر ہوتے تھے۔ ایک مرتبہ لاٹھی چارج کے دوران پاکستان چوک کے قریب ہم پولیس والوں سے گتھم گتھا ہوگئے تھے۔ تب ایک موٹے بدصورت سپاہی نے عبدالودود کے سر پر زور سے ڈنڈا مارا تھا۔ لہولہان ہوکر عبدالودود چکراکر گر پڑا تھا اور بیہوش ہوگیا تھا۔
عبدالودود چار پانچ روز تک سول اسپتال کراچی کے نیورو وارڈ میں بیہوش پڑا رہا تھا۔ اس کے بوڑھے والدین، بھائی بہن اور ہم اس کے دوست لگاتار اسپتال میں موجود رہتے تھے۔ پانچ روز بعد عبدالودود کو ہوش آیا۔ اس نے آنکھیں کھولیں۔ ہم سب کی طرف اس نے اس طرح دیکھا جیسے وہ ہمیں پہچاننے کی سعی کررہا تھا۔ اس نے ڈاکٹر سے پوچھا۔ ’’رادھا کہاں ہے؟ رادھا کو بلائو۔‘‘
ڈاکٹر نے تعجب سے عبدالودود کے والدین کی طرف دیکھا۔ وہ دکھ کی تصویر بنے ہوئے تھے۔ محو حیرت تھے۔ ڈاکٹر نے عبدالودود سے پوچھا۔ ’’کون رادھا؟‘‘
عبدالودود نے کہا۔ مائی وائف۔ میری بیوی۔
میری دھرم پتنی رادھا۔
اتنا کہنے کے بعد عبدالودود نے آنکھیں بند کردیں، ہم سب گھبرا گئے۔ ڈاکٹر نے عبدالودود کے والدین سے پوچھا، ’’رادھا کون ہے؟‘‘
عبدالودود کے والد اور والدہ نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، والد نے کہا، ’’رادھا اور عبدالودود چاندنی چوک پرائمری اسکول دلی میں کلاس میٹ تھے۔ ہم آپس میں پڑوسی بھی تھے۔ رادھا کے والدین کا ہمارے یہاں اور ہمارا ان کے ہاں آنا جانا تھا۔ انیس سو اڑتالیس میں ہم ہجرت کرکے کراچی آگئے۔ اس وقت عبدالودود کی عمر بارہ برس کی تھی۔‘‘قصہ کوتاہ۔ عبدالودود کے سر کے زخم بھر گئے، اس کے ہچکولے کھاتی ہوئی ذہنی کیفیت ٹھیک ہونے لگی۔ ہم سب دوست ایم اے کی ڈگری لیکر فارغ ہوئے اور روزگار کی تلاش میں نکل پڑے۔ عبدالودود اور میں نے ریڈیو پاکستان میں ملازمت کرلی۔ ہمارے لئے وہ ضمیر کو کچو کے لگانے والا دور تھا۔ وہی فیلڈ مارشل ایوب خان جس کے خلاف ہم گلی کوچوں میں لڑتے پھرتے تھے اور وحشی سپاہیوں کے ہاتھوں پٹتے رہتے تھے، اسی ایوب خان کے بے مثال کارناموں پر ہم پروگرام بنایا کرتے تھے۔ پیٹ نے ازل سے انسان کو ذلیل وخوار کیا ہے۔ کئی مرتبہ عبدالودود اور مجھے ریڈیو پاکستان چھوڑ کر کسی اسکول یا کالج میں پڑھانے کا خیال آیا۔ جائزہ لینے کے بعدپتہ چلا کہ تعلیمی اداروں کا بھی وہی حال تھا جو کہ ریڈیو پاکستان کا تھا۔ پاکستان اسٹڈیز کی پوری کتاب ایوب خان کے عظیم کارناموں سے بھری ہوئی تھی۔ وہ پاکستان کے محسن تھے۔ انہوں نے پاکستان کو ٹوٹنے اور بکھرنے سے بچالیا تھا۔ دشمنوں کو نیچا دکھادیا تھا۔ جمہوریت کو بچا لیا تھا۔ اور اقتصادی اصلاحات کرنے کے بعد فیلڈ مارشل ایوب خان نے پاکستان کو ترقی کی راہ پرگامزن کردیا تھا۔ تب عبدالودود اور میں نے مایوس ہوکر کسی اخبار میں کام کرنے کا سوچا تھا۔ جائزہ لیا تو پتہ چلا کہ تمام اخبار پہلے صفحے سے آخری صفحے تک ایوب خان کے بارے میں خبروں سے بھرے ہوئے تھے۔ دلبرداشتہ ہوکرہم ریڈیو پاکستان سے منسلک رہے۔ حال نے ہمیں بے حال کردیا تھا۔ ایک مرتبہ عبدالودود اور میں نے خودکشی کرنے کی ٹھان لی تھی۔ تب ایک ملا نے ہمیں خودکشی سے روکتے ہوئے کہا تھا کہ بچو، حرام موت مرنے سے بہتر ہے کہ تم ذلت کی زندگی جیو اور صبر و تحمل کا مظاہرہ کرو۔ذلت کی زندگی گزارتے ہوئے ہمیں اپنا اپنا دلفریب ماضی بہت یاد آتا تھا۔ ایک روز عبدالودود نے مجھے چونکا دیا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ وہ کسی ماہر نفسیات سے ملے گا۔
اور ہیپناٹائز ہوکر، تھوڑی دیر کیلئے سہی وہ ماضی میں لوٹ جائے گا۔ اور کچھ دیر کے بعد واپس آئے گاؒ۔ عبدالودود کی بات مجھے اچھی لگی۔ میں نے سوچا کہ عبدالودود کے بعد میں ہیپناٹائز ہوکر اپنے ماضی میں دور تک چلا جائوں گا۔ ماہر نفسیات نے عبدالودود کو ہیپناٹائز کرنے کے بعد اس کے اپنے ماضی میں بھیج دیا۔ آنکھیں بند کرکے عبدالودود اسٹریچر قسم کے صوفے پر پڑا رہا۔ ماہر نفسیات اس سے سوال پوچھتا رہا اور وہ ہر سوال کا جواب دیتا رہا۔ کافی دیر کے بعد ماہر نفسیات نے پوچھا عبدالودود اس وقت تم کہاں ہو؟ عبدالودود نے جواب دیتے ہو ئے کہا ، میں دلی میں ہوں، دلی کے چاندنی چوک والے پرائمری اسکول میں ہوں۔ میں رادھا کے ساتھ ہوں۔ ہم دونوں بہت خوش ہیں۔ اب ہم دونوں، رادھا اور میں کہیں نہیں جائیں گے۔ ماہر نفسیات چونک پڑا اور کہا، دیکھو عبدالودود تم وہاں اتنی دیر تک نہیں رک سکتے۔ لوٹ آئو۔ واپس آجائو عبدالودود۔ عبدالودود نے دو ٹوک جواب دیتے ہوئے کہا، نہیں ڈاکٹر صاحب، میں رادھا کے بغیر واپس نہیں آسکتا۔ میں رادھا کو اپنے ساتھ لے کر آرہا ہوں۔ ڈاکٹر چیخ پڑا۔ ایسا مت کرنا عبدالودود، ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات بڑے کشیدہ ہیں، تمہاری اس حرکت سے دونوں ممالک کے درمیان کہیں جنگ نہ چھڑ جائے، تم رادھا کو وہیں دلی میں چھوڑ کر واپس آجائو۔ دیر مت کرو عبدالودود ۔ لوٹ آئو۔
کچھ دیر کے بعد عبدالودود نے آنکھیں کھولیں۔ ڈاکٹر نے پوچھا، کیسا محسوس کررہے ہو؟ عبدالودود نے کہا، رادھا کو میں اپنے ساتھ لے آیا ہوں۔ ماہر نفسیات نے عبدالودود کو پاگل جانا، اور پوچھا۔ کہاں ہے تمہاری رادھا؟ عبدالودود نے اپنے سر کو چھوا اور دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔ رادھا یہاں ہے، میرے دل میں میرے دماغ میں ہے، اب تو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ نہیں لگے گی نا؟

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں