امریکی میڈیا کے ’’دی ڈونلڈ‘‘ سے سپر پاور کے صدربننے تک

وائٹ ہائوس کے نئے مکیں کے بارے میں یہ تاثر درست نہیں ہے کہ وہ حالیہ انتخابات کے موقع پر ہی صدارتی امیدوار کے طور پر سامنے آئے تھے، درحقیقت امریکا کے ارب پتی تاجر ڈونلڈ ٹرمپ نے سیاست میں دلچسپی لینا 80ء کی دہائی میں ہی شروع کردی تھی۔

سب سے پہلے انہوں نے ’’ریفارم پارٹی‘‘ میں شمولیت اختیار کرکے عملی سیاست میں قدم رکھا اور اس کے بعد بغیر کسی پارٹی کے اپنا سیاسی تشخص بنانے کے لئے انفرادی طور پر خاموشی سے کام شروع کردیا۔

وہ لوگوں سے ملاقاتوں، رابطوں اور کاروباری حوالوں سے بھی اپنی سیاسی حقیقت کو مستحکم کرتے رہے اور 2012 ء میں باضابطہ طور پر ری پبلکن ہونے کا اعلان کردیا۔

اُس وقت انہیں اس بات کا اندازہ ہوچکا تھا کہ وہ مالی طور پر اتنے مستحکم اور اپنے سیاسی تعلقات اور رابطوں کو اتنا یقینی بناچکے ہیں کہ ’’وائٹ ہائوس‘‘ تک رسائی حاصل کرنے کی راہ میں رکاوٹوں کو فتح کرسکتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کاروباری پس منظر شاندار ہی نہیں، بلکہ قابل رشک بھی ہے، تاہم انہیں اس حوالے سے بنیادی اور ابتدائی نوعیت کی جدوجہد کرنا پڑی، ان کے والد امریکی ریاستوں برومکن اور کوئنیز میں بڑے بڑے تعمیراتی منصوبوں سے منسلک رہے۔

یہ تمام کاروباری تجربات اور مراعات ٹرمپ کو اپنے حاکمانہ انداز والے والد سے ملیں، اس کے ساتھ ساتھ اربوں ڈالرز کی جائیداد بھی ملی، جس کے بعد انہوں نے دنیا بھر میں آفس ٹاور، ہوٹلز، کیسینوز، گولف کورسز اور مشہور کاروباری ادارے قائم کیے اور میں ہلٹن جیسے معروف علاقے میں بلند و بالا عمارتیں بھی کھڑی کیں نام ’’ٹرمپ ٹاور‘‘ ان کی شناخت بنا۔

20کروڑ ڈالر مالیت کے اس ٹاور میں پرتعیش اپارٹمنٹ اور مختلف کاروباری دفاتر قائم ہیں۔ 58 منزلہ ٹرمپ ٹاور کی تعمیر میں گلابی رنگ کا سنگ مرمر اور 18میٹر بلند آبشار اسے منفرد بناتی ہے۔

اس کے علاوہ نیو جرسی ’’ایٹلانٹک سٹی‘‘ میں واقع کیسینوز کی تعمیر کی وجہ سے بھی انہیں شہرت ملی، پھر ٹرمپ پلازا، ٹرمپ کیسل اور تاج محل تعمیر کیا، جس پر ایک ارب ڈالر کے اخراجات آئے، لیکن بعد میں اس منصوبے کے حوالے سے ٹرمپ دیوالیہ بھی ہوئے۔ ٹرمپ کے بارے میں یہ بات بھی مشہور ہے کہ وہ ’’کاروباری تنازعات کو عدالتوں سے طے کرنے کے ہنر میں ملکہ حاصل رکھتے ہیں‘‘۔

دنیا کی دیگر بڑی شخصیات کی طرح ڈونلڈ ٹرمپ بھی گھر کے محاذ پر پریشانیوں سے محفوظ نہ رہ سکے ۔ انہوں نے اپنی پہلی بیوی اوانا کو طلاق دی، جس سے ان کے تین بچے ہیں۔ بعد میں انہوں نے مارلہ میپلز سے شادی کی ،پھر اسے بھی طلاق دےدی، اُن کی موجودہ بیگم ملانیا کا تعلق سلووینا سے ہے، جن کا شمار اپنے ملک کی مشہور ماڈل گرلز میں ہوتا تھا۔ ٹرمپ نے ان سے 2005ء میں شادی کی تھی۔

مقابلہ حسن کے انعقاد اور ریسلنگ کے مقابلوں میں کمنٹری کے علاوہ ٹی وی پر متعدد پروگرامزبھی پیش کئے۔ ان کے رئیلٹی ٹی وی شو ’’دی اپرنٹس‘‘ کو جہاں زبردست شہرت ملی، وہاں اس شو نے انہیں ایک مستند اداکار کا درجہ بھی دیا، اس شو کی وجہ سے ٹرمپ کو 20کروڑ ڈالر سے زائد کی کمائی ہوئی۔

ازدواجی زندگی کاروباری ایڈونچرز اور شوبز میں مختلف حوالوں کے باعث امریکی میڈیا انہیں ’’دی ڈونلڈ‘‘ کہا کرتا تھا، لیکن اب بھی ’’دی ڈونلڈ‘‘ سپر پاور کے صدر کی حیثیت سے پہچانے جائیں گے۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں