امریکی سیکریٹری دفاع جیمز میٹس کی وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات

اسلام آباد(پی ایف پی) پاکستان اور امریکہ کے درمیان سرد مہری ختم ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں اور اس کی تازہ ترین مثال امریکی سیکرٹری دفاع کا دورہ پاکستان ہے۔ امریکہ کے سیکرٹری دفاع جیمز میٹس نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلی بار اسلام آباد کادورہ کیا اور اس دورے میں انہوں نے پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کی

اسلام آباد پنچنے پر ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ امریکی سیکرٹری دفاع مصر اور لبنان کے دورے کے بعد ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچے تھے ، ان کا استقبال وزارت دفاع اور وزارت خارجہ کے حکام اور امریکی سفارت خانے کے عملے نے کیا۔

بعد ازاں امریکی سیکریٹری دفاع نے اسلام آباد میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کی۔

US Secretary of Defence Mr. James Mattis called on Prime Minister Shahid Khaqan Abbasi in Islamabad on December 04 2017.

اس موقع پر پاکستانی وفد میں وزیر دفاع خرم دستگیر خان، وزیر خارجہ خواجہ آصف، وزیر داخلہ احسن اقبال، قومی سلامتی کے مشیر لیفٹننٹ جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل نوید مختار اور دیگر سینئر حکام شامل تھے۔

دوسری جانب امریکی وفد میں پاکستان میں تعینات امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل بھی موجود تھے۔امریکی سیکرٹری دفاع کے وفد میں 21 افراد شامل ہیں۔ اس دورے کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنا بھی ہے

دورے کے دوران امریکا کے سیکریٹری دفاع آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی اہم ملاقات کریں گے۔

مزید پڑھیں: امریکیوں کو ویزوں کے اجرا کے معاملے میں کوئی نرمی نہیں برتی جارہی، وزارت داخلہ

ذرائع کے مطابق امریکی اور پاکستانی قیادت کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں میں خطے کی صورتحال اور دونوں ممالک کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

بعد ازاں امریکا کے سیکریٹری دفاع آج ہی پاکستان کا دورہ مکمل کرکے کویت کے لیے روانہ ہوجائیں گے۔

اس سے قبل میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا کے سیکریٹری دفاع جیمز میٹس اسلام آباد میں افغانستان کے حوالے سے نئی امریکی پالیسی پر پاکستان سے تعاون کے حوالے سے بات کریں گے اور اس نئی پالیسی کا مقصد افغانستان میں طالبان کو شکست دینا اور ان کو افغان حکومت سے مذاکرات پر مجبور کرنا ہے۔

گذشتہ روز جیمز میٹس نے بتایا کہ وہ پاکستان کو اقدامات اٹھانے کے لیے زبردستی نہیں کرنا چاہتے کیونکہ انہوں نے امید کی ہے کہ اسلام آباد دہشت گردی کی روک تھام کے لیے اپنا وعدہ پورا کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: نئی امریکی پالیسی کے خلاف پاکستان میں قبائلی افراد کا احتجاج

ایک صحافی کی جانب سے جیمز میٹس کا وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور آرمی چیف قمر باجوہ سے سر جوڑلینے کی تجویز پر انہوں نے منفی رد عمل کا اظہار کیا۔

امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق جیمز میٹس نے اسے ان کے طریقہ کار کے خلاف بتاتے ہوئے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ ہم مل کر معاملے کا کوئی حل ڈھونڈ نکالیں گے۔

دو روز قبل پینٹا گون کے جوائنٹ اسٹاف ڈائریکٹر لیفٹننٹ جنرل کینیتھ مک کینزی نے نیوز بریفنگ کے دوران بتایا تھا کہ امریکا، افغانستان میں مزید 3 ہزار فوجی تعینات کر چکا ہے اور افغان سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف مشترکہ آپریشن کرنے کے لیے تیار ہے، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغانستان میں امریکا کے 14 ہزار اور 2 ہزار نیٹو اتحاد کے فوجی اہلکار پہلے ہی موجود ہیں۔

امریکا کی جانب سے افغانستان میں مزید فوجیوں کی تعیناتی نئی امریکی پالیسی کا حصہ، جس کا مقصد طالبان کو میدانِ جنگ میں شکست دے کر افغان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے میز پر لانا ہے اور مذکورہ مقصد کو پورا کرنے کے لیے امریکا کو پاکستان کی مدد درکار ہے اور اسی حوالے سے امریکی سیکریٹری دفاع اسلام آباد میں اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت سے بات چیت کریں گے۔

اس وقت خیال ظاہر کیا جارہا تھا کہ جیمز میٹس متوقع طور پر پاکستان سے حقانی نیٹ ورک کے خاتمے پر بات کریں جس کے بارے میں امریکا کی جانب سے دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ ان کے اب بھی وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) میں مبینہ محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں اور وہ ان پناہ گاہوں کو افغانستان میں حملے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

تاہم پاکستان، حقانی نیٹ ورک کی مبینہ محفظ پناہ گاہوں کی فاٹا میں موجودگی کے حوالے سے امریکا کے الزامات کو ہمیشہ مسترد کرتا رہا ہے۔

یاد رہے کہ 5 اکتوبر کو پاکستان کے دفترِ خارجہ سے جاری بیان میں بتایا گیا تھا کہ وزیرِ خارجہ خواجہ آصف نے امریکی ہم منصب ریکس ٹِلرسن سے ملاقات میں امریکا کی جنوبی ایشیا سے متعلق پالیسی کا معاملہ اٹھاتے ہوئے انہیں بتایا تھا کہ پاکستان تمام دہشت گردوں اور شدت پسند گروپوں کے خلاف زیرو ٹالرینس کی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے اور ان کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جارہی ہے۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں