امجد صابری کے جھوٹے سوگوار…نوید چوہدری

امجد صابری کے جھوٹے سوگوار…نوید چوہدری
نوید چوہدری امجد فرید صابری کے ہائی پروفائل قتل کیس کے بعد کئی ایک سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کے صاحبزادے کے اغوا کے بعد بین الاقوامی شہرت یافتہ فنکار کو دن دہاڑے گولیاں مارنے سے کراچی آپریشن سے متعلق دعوے دھندلا کررہ گئے۔ امجد صابری کے سلسلے میں بظاہر یوں دکھائی دیتا ہے کہ الزامات کا بال بلکہ فٹبال ایم کیو ایم کی گول پوسٹ میں ڈالنے کی تیاریاں ہیں۔ یہ الزام سچ بھی ہو سکتا ہے کیونکہ قتل و غارت گری ایک طویل عرصے سے ایم کیو ایم کیلئے معمول کی بات رہی۔ خصوصاً اپنے ایریا میں وہ جس کو جب اور جیسے چاہتے نشانہ بناتے رہے۔ مقام افسوس کہ ملک کے تحقیقاتی اداروں پر بھی انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اداروں کی ساکھ اس سطح پر نہیں کہ ان کی کہی گئی ہر بات کو من و عن تسلیم کر لیا جائے۔ لیاقت آباد کے گنجان آباد علاقے میں امجد صابری کو نشانہ بنائے جانے کے بعد سب سے زیادہ افسوس ایم کیو ایم کی جانب سے ہی کیا گیا بلکہ پہلا سنجیدہ ردعمل بھی انہی کی جانب سے آیا۔ ندیم نصرت اور فاروق ستار نے علانیہ طور پر جو کچھ کہا اسکا واضح مفہوم اتنا ہی تھا کہ یہ بہیمانہ قتل سرکاری سرپرستی میں قائم کیے گئے مخالف گروہ( پاک سر زمین) والوں نے کیا یا کروایا ہے ۔ محفوظ بلکہ آہنی ہاتھوں میں موجود سرزمین پارٹی والوں نے قدرے مطمئن انداز میں جواب دیتے ہوئے ملبہ واپس ایم کیو ایم پر ہی ڈال دیا۔ تحقیقاتی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ دونوں گروپوں کے دعوؤں کو ایک جیسی اہمیت دیں۔ قتل اور واردات کا حکم دینے والا ماسٹر مائنڈ کوئی اور بھی ہو سکتا ہے مگر ان دونوں گروپوں کیلئے انسانی جان کی جو قدروقیمت ہے اس سے پورا زمانہ آشنا ہے۔ اگر یہ ایک دوسرے پر الزامات لگا رہے ہیں تو یہ بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے کہ دونوں ایک دوسرے سے خوب واقف ہیں، ہو سکتا ہے کہ کوئی سراغ یا ٹھوس ثبوت مل جائے ورنہ معاملہ کو اب تک جس انداز میں اچھالا جارہا ہے اس سے ایم کیو ایم کو یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ ہمارا ہی ہمدرد مارا گیا۔ الٹا الزام بھی ہم ہی پر لگایا جارہا ہے۔ ایم کیو ایم والے روز اول ہی سے کہہ رہے ہیں کہ سرزمین والے مقتول صابری کو اپنے ساتھ ملانا چاہتے تھے۔ ہچکچاہٹ پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جارہی تھیں،ایسا نہیں کہ قاتل کی تلاش صرف ان دو تنظیموں تک محدود ہے۔ اس واردات کے حوالے سے انگلیاں کئی طرف اٹھ رہی ہیں۔
بھارت اور امریکہ نواز ’’لبرل لابی‘‘ نے تو واردات کی خبر آتے ہی اسے مسلکی بنیادوں پر ہونے والی ٹارگٹ کلنگ قرار دیدیا تھا۔مگر مچھ کے آنسو بہانے والے ان جھوٹے سوگواروں کے قبیح عزائم کچھ اور ہیں۔ مذہب، اخلاقیات غیرت نامی شے سے کوسوں دور رہنے والے اس گروہ(بشمول این جی او مافیا) نے معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کیلئے پورا زور لگایا۔ باور کیا جاتا ہے کہ ملک میں مسلکی تنازعات کو ہوا دینے کیلئے انہیں ایسا کرنے کی باقاعدہ ہدایات ملی ہوں گی، کہاں سے؟ بھارت، امریکہ کے علاوہ شاید ایک آدھ اور ہمسایہ ملک سے بھی کہا گیا کہ صوفی ازم کا پرچار کرنے والی آواز خاموش کرادی گئی۔ چھوٹے موٹے احتجاجی مظاہرے کرانے کی بھی کوشش کی گئی۔ اس خوفناک سازش کو مگر سول خفیہ ادارے آئی بی کی رپورٹ نے ناکام بنا دیا۔ ادارے کی تحقیقات میں کہا گیا کہ ایسا کوئی اشارہ تک نہیں ملا کہ واردات مذہبی یا مسلکی تنازع کے پیش نظر کی گئی۔ 2014 ء کے دھرنوں کے بعد آئی بی کا یہ دوسرا بڑا کارنامہ ہے کہ اس نے ملک میں آ گ بھڑکانے کی سازش کو لپیٹ دیا۔ 2014 ء کے دھرنوں میں بھی آئی بی نے بعض ایسی ریکارڈنگز اور شواہد حاصل کر لیے تھے جو اصل منصوبہ سازوں کے کیے کرائے پر پانی پھیرنے کا موجب بن گئے۔ عالمی اسٹیبلشمنٹ کی ایک طویل عرصے سے کوشش ہے کہ پاکستان میں مسلکی بنیادوں پر فسادات کرا کے مداخلت کی راہ ہموار کی جائے تاکہ ایٹمی پروگرام اور ملکی سالمیت پر وار کیا جا سکے۔ ان عناصر کی سہولت کاری کیلئے پاکستان میں میڈیا کا ایک حصہ موجود ہے ہی جبکہ عالمی میڈیا بھی آلہ کار بنا ہوا ہے۔ امجد صابری کے قتل پر بی بی سی کے تبصرے میں زہریلی باتیں کی گئیں اور کہا گیا کہ مقتول چونکہ صوفیانہ کلام وغیرہ گاتے تھے اس لیے جان سے مارا گیا۔ اس رپورٹ میں بعض گیتوں کے اشعار کا حوالہ بھی دیا گیا جس میں مقدس مذہبی ہستیوں کا ذکر تھا۔ یہ رپورٹ خالصتاً شر انگیزی پر مبنی تھی جس کا واحد مقصد پاکستان میں مسلکی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانا تھا۔ تحقیقاتی اداروں کو قاتلوں تک پہنچنے کیلئے یہ نکتہ بھی سامنے رکھنا ہو گا کہ قاتل بے شک مقامی ہی کیوں نہ ہوں پیچھے ہاتھ کوئی اور تھا۔ امجد صابری کو قتل کرا کے پورے پاکستان کو خون میں نہلانے کی کوشش تھی،اگرچہ ایسا ممکن نہیں پھر بھی دیکھنا ہو گا کہ اس واردات سے پاکستان کے دشمنوں کو کیا حاصل ہو سکتا تھا۔ نہیں معلوم کہ کیس کس پر ڈالا جانے والا ہے مگر یہ بات طے ہے کہ سازش کافی بڑی سطح پر تیار کی گئی۔
قاتل پکڑے بھی گئے تو ماسٹر مائنڈ تک پہنچے بغیر کام نہیں بنے گا۔ بظاہر قاتل تو بینظیر بھٹو کے بھی پکڑے گئے تھے لیکن ماسٹر مائنڈ تک شاید آج تک کوئی نہیں پہنچ سکا۔ سابق وزیراعظم کے قتل کا الزام بھی طالبان پر ہی لگا تھا۔ اس وقت پورا پاکستان تو کیا دنیا حیران رہ گئی جب بیت اللہ محسود نے وزیرستان میں باقاعدہ پریس کانفرنس میں کہا کہ اس واردات سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ قاتلوں کو اپنے ہاں ہی تلاش کریں۔ خود آصف زرداری بھی نجی محفلوں میں کچھ اور کہتے رہے جبکہ بظاہر کوئی دوسرا موقف اختیار کیے رکھا۔ آج وہی آصف زرداری کے پی کے حکومت کی جانب سے مولانا سمیع الحق کے مدرسے کو 30 کروڑ روپے امداد دیئے جانے پر معترض ہیں۔ ایسا صرف عالمی اسٹیبلشمنٹ کو خوش کرنے کیلئے کیا جارہا ہے یا ملک میں موجود لبرل لابی کی ہمدردیاں بٹورنے کیلئے۔مدرسہ حقانیہ اکوڑہ خٹک درخشاں روایات رکھنے والا دینی تعلیم کا عظیم ادارہ ہے۔ جہاد کے حوالے سے وہاں جو کچھ بھی ہوا وہ خالصتاً ریاستی پالیسی کے تحت ہی ہوا۔ طالبان کے ایک حصے کی جانب سے بیرونی بالخصوص بھارتی امداد ملنے کی اطلاعات پر پاکستان میں موجود ان کے ہمدردوں نے قطع تعلق کر لیا۔ افغان طالبان نے بھی ایسے عناصر کی شدید حوصلہ شکنی کی ۔یہ عناصر اب افغانستان میں امریکی سرپرستی کا لطف اٹھارہے ہیں۔بحیثیت مجموعی دینی مدارس کا کردار روز روشن کی طرح عیاں اور اجلا ہے۔ طاغوتی طاقتوں کی یلغار کے مقابلے اور اسلامی شعائر کے تحفظ کیلئے انکا رول کسی طور نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ دینی مدارس نہ ہوتے تو آج کے دور میں بھی مسیلمہ کذاب نہ صرف پیدا ہوتے بلکہ دندناتے پھرتے۔ منکرین زکوٰۃ جیسے مسائل بھی کھڑے ہوتے۔ مدارس ہی دین کا قلعہ ہیں اور رہنمائی کا مرکز بھی۔ اس حوالے سے بیان بازی کرتے وقت سب کو حقائق مدنظر رکھنا چاہئیں۔مولانا سمیع الحق کے مدرسے کو امداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ہی ایک صوبائی حکومت نے دی ہے اور علانیہ دی ہے۔ یہاں تو ایسے بھی موجود ہیں کہ جن کیلئے غیر ملکی امداد کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، وہ بھی مذموم مقاصد کیلئے۔ مدرسہ حقانیہ کو کے پی کے حکومت کی امداد قابل تعریف ہے، اسے مسلکی اور فرقہ وارانہ رنگ دینے اور کوسنے والے خود اپنے گریبانوں میں جھانکیں۔فساد پھیلانا درحقیقت لبرل لابی کا ایجنڈا ہے جس کا ٹاسک ان کے بیرونی آقاؤں نے سونپ رکھا ہے۔انہی عناصر نے ایک مذموم منصوبے کے تحت چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کے بیٹے کے اغوا کو اداروں کی کارروائی قرار دینے کی مہم چلارکھی ہے جس کا واحد مقصد بچے کھچے اداروں کو بھی متنازعہ بنانا ہے۔ مقام افسوس ان اداروں نے اپنی ساکھ محفوظ رکھنے یا دفاع کیلئے جن عناصر کو (بالخصوص) میڈیا میں جن خواتین وحضرات کو آگے کررکھا ہے وہ خود ایک سے بڑھ کر ایک دو نمبرئیے ہیں ۔ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ 2 سے لے کر 10 نمبرئیے ہیں۔
این جی او مافیا بے حد خطرناک اور بے لگام ہو چکا۔ بیرونی ممالک کے گماشتے ایک عرصے سے اس کوشش میں ہیں کہ پاکستان میں عراق اور شام والی ابتری پیدا کی جائے۔دونوں ممالک میں حالات خراب ہوئے تو معاملات حکومتوں اور سرکاری افواج تو کیا ایران اور حزب اللہ کی عملی معاونت کے باوجود قابو سے باہر ہو گئے تھے۔ شام میں النصرۃ فرنٹ دمشق کو روند کر لبنان میں داخل ہو کر تباہی مچانے کا منصوبہ بنائے ہوئے تھا۔ ادھر عراق میں داعش بغداد کو تاراج کر کے اگلے محاذوں پر خون ریزی کی داستانیں رقم کرنے کیلئے تیار نظر آتی تھی۔ جب ان کو روکنا دونوں ممالک کی حکومتوں اور ان کے اتحادیوں کے بس میں نہ رہا تو ان دونوں ممالک میں مقابلے کیلئے امریکہ یورپ اور روس کو پوری جنگی مشینری کے ساتھ میدان جنگ میں آنا پڑا۔ سو فیصد کامیابی پھر بھی نہ مل سکی۔ لبرل لابی اپنے آقاؤں کیلئے اسی شطرنج کی بساط پاکستان میں بچھانے کی کوشش کررہی ہے تاکہ خدانخواستہ یہاں بھی امریکہ، یورپ اور روس کو مداخلت کا موقع مل سکے۔ ملکی اسٹیبلشمنٹ کو ان تمام معاملات کا نہ صرف اچھی طرح ادراک ہونا چاہیے بلکہ تدارک کیلئے ٹھوس اقدامات کا احساس بھی۔ پاکستان کی صورتحال اور زمینی حقائق بہت مختلف ہیں۔ عراق اور شام سے مماثلت کی کوئی شکل یہاں موجود نہیں ہے۔ پاکستان کے خلاف غیر ملکی سازشوں کو اپنے گماشتوں کی مدد سے زبردستی آگے بڑھانے کی کوشش کی گئی تو نتائج بھی کچھ اور ہونگے۔ سمجھنے والوں کو ابھی سے سمجھ لینا چاہیے۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں