الطاف حسین سے رائے لینے کی شق پارٹی آئین سے نکال دی، فاروق ستار

کراچی(پی ایف پی) متحدہ قومی مومومنٹ پاکستان کے سربراہ فاروق ستار کا کہنا ہے کہ پارٹی رہنماؤں کی مشاورت کے بعد پارٹی میں آئین میں ترمیم کرتے ہوئے بانی ایم کیو ایم سے رائے لینے کی شق دستور سے نکال دی گئی ہے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں کا مشاورتی اجلاس عارضی دفتر میں 4 گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہا جس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے فاروق ستار کا کہنا تھا کہ پارٹی رہنماؤں کے مشاورتی اجلاس کے دوران جو فیصلے کیے وہ 23 اگست کو اٹھائے گئے بیڑے کا سلسلہ ہے جب کہ تمام ارکان نے 23 اگست کے فیصلوں کو اتفاق رائے سے قبول کیا اور پارٹی کے آئین میں بھی تبدیلی کرتے ہوئے آرٹیکل نائن بی کو دستور سے نکال دیا جس کے تحت بانی ایم کیو ایم سے توثیق لینے کا کہا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں ترمیم کی اور یہ ہمارا عملی اقدام ہے، ہماری پالیسی اور فیصلے لندن کی پالیسی اورفیصلوں سےآزاد ہیں، ہماری 38 سال کی جدوجہد اپنی جگہ لیکن اب صرف طریقہ کار تبدیل ہوا ہے اور اب جو بھی فیصلے ہوں گے پاکستان میں ہی ہوں گے، پارٹی آئین میں ہے کہ کنوینر پاکستان میں نہیں تو ڈپٹی کنوینر پارٹی لیڈرہوتا ہے، کنوینر کی غیرموجودگی میں ڈپٹی کنوینر پارٹی مشاورت سے فیصلے کریں گے۔

فاروق ستار نے کہا کہ غیرقانونی دفاتر کا بہانا بنا کر دفاتر کو گرانے کا سلسلہ بند کیا جائے، ہمیں آزمایا جائے اور موقع دیا جائے، تشدد کے خاتمے، دہشت گردی کو قلع قمع کرنے کے لیےہماری جدوجہد جاری رہے گی اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون بھی جاری رہے گا تاہم وزیراعظم اور وزیراعلی سندھ بتائیں کہ فیصلے کہاں ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاپتا افراد کو بازیاب ہونا چاہیے اور 22 اگست کے بعد گرفتار بے گناہ افراد اور ان تین خواتین کو بھی رہا کیا جائے جو ویڈیو میں دکھائی نہیں دے رہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو اپنے ملک میں ہی بیگانہ بنایا جائے گاتو لوگ جائیں گے کہاں، پاکستان زندہ باد کہنے والوں کو بھی فرزند زمین سمجھا جائے۔ فاروق ستار نے بتایا کہ چار لوگوں کو مزید رابطہ کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے جن میں خالد مقبول صدیقی، سردار احمد، رؤف صدیقی اور خواجہ سہیل شامل ہیں۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں