افغان جنگ کے دوران نہتے عام شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافہ قابل افسوس ہے، اقوام متحدہ

رواں سال طالبان اور فورسز کے درمیان لڑائی میں ڈیڑھ ہزار سے زائد عام شہری ہلاک ہوئے ، رپورٹ میں انکشاف

اقوام متحدہ ( پی ایف پی) اقوام متحدہ نے افغانستان میں سکیورٹی فورسز اور طالبان جنگجوؤں کے درمیان جاری لڑائی میں نہتے عام شہریوں کی ہلاکتوں کے واقعات میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ایک جائزہ رپورٹ کے مطابق رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران مجموعی طور پر ایک ہزار چھ سو افغان شہری ہلاک اور ساڑھے تین ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق افغان حکومت اور اس کے اتحادی فورسز کے خلاف برسرپیکار طالبان شدت پسند عام شہریوں کے ساٹھ فیصد ہلاکتوں کے براہ راست ذمہ دار ہیں
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس عرصے کے دوران ہلاکت کے واقعات میں47فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ افغان فورسز پر 22فیصد ہلاکتوں کی ذمہ داری عائد ہوئی ہے۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار تادہ میچی یا ماموتو کے افغانستان میں جاری لڑائی ، فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ آپس کی اس جنگ میں نہتے عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور عام لوگوں کے ہلاکتوں کے واقعات کو روکنے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران افغانستان میں لڑائی کے دوران پندرہ سو سے زائد معصوم بچے ہلاک و زخمی ہوئے ہیں جو کہ اب تک بچوں کے جانی نقصان کی سب سے بڑی تعداد ہے

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں