استبداد ……الطاف حسن قریشی

استبداد ……الطاف حسن قریشی
پچھلے چند برسوں سے اسلامی دنیا شدید افراتفری کا شکار ہے اور میں اِس کے اسباب پر رات کی تنہائیوں میں غور کرتا رہا ہوں، مگر کوئی سرا ہاتھ نہیں آیا۔ انہی دنوں میرے نہایت عزیز دوست جاوید نواز نے مسقط سے مفکرِ اسلام اور مفتی ٔاعظم عمان علامہ احمد بن حمد الخلیلی کی معرکۃ الآرا کتاب ’’استبداد‘‘ اس کے مظاہر اور تدارک ارسال کی۔ میں نے اِسے پڑھنا شروع کیا، تو پڑھتا ہی چلا گیا اور اُن کی علمی فضیلت سے نشاطِ روح حاصل کرتا رہا۔ انہوں نے کسی تعصب کے بغیر بہت کھلے ذہن کے ساتھ مسلمانوں کی تاریخ کا جائزہ لیتے ہوئے اُمت کی پستی، زوال اور انتشار کا جائزہ لیا اور مولانا حسن علی ندوی، سید ابوالاعلیٰ مودودی اور سید قطب شہید کی تصنیفات سے استفادہ کیا۔ اُن کے تجزیے کے مطابق ظلم و جور اور استبداد نے اِس نظامِ حکومت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا جو اللہ تعالیٰ کے آخری نبی حضرت محمد ﷺ نے عدل و انصاف اور انسانی آزادی اور مساوات پر قائم کیا تھا اور خلافتِ راشدہ میں اِسے وسعت ملی تھی۔ اسلام کے نزدیک حکمرانی حاکم اور ماتحتوں کے درمیان معاہدہ ہے اور جانبین کے لئے اِس پر عمل کرنا اور شریعت کی پیروی کرتے رہنا ضروری ہے۔ حاکم پر لازم ہے کہ وہ سب سے انصاف کرے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’اے ایمان والو! تم انصاف پر مضبوطی سے قائم رہنے والے اور اللہ کے لئے گواہی دینے والے خواہ (گواہی) خود تمہارے اپنے یا تمہارے والدین یا (تمہارے) رشتے داروں ہی کے خلاف ہو، اگرچہ جس کے خلاف گواہی ہو، مالدار ہو یا محتاج، اللہ ان دونوں کا (تم سے) زیادہ خیر خواہ ہے۔ سو تم خواہشِ نفس کی پیروی مت کیا کرو کہ تم عدل سے ہٹ جاؤ (گے)۔ اگر تم گواہی میں پیچ دار بات کرو گے یا حق سے پہلوتہی کرو گے، تو اللہ تعالیٰ ان سب کاموں سے جو تم کر رہے ہو خبردار ہے۔‘‘
خلافت ِراشدہ میں اِس قرآنی منشور پر عمل ہوا، خلفاء امام بھی تھے، لوگوںکو نماز پڑھاتے تھے۔ قاضی تھے جو لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کے مطابق فیصلے کرتے، مسلمانوں کے اموال اور خزانوں کے امین ہوتے اور فوجوں کے سپہ سالار بھی تھے جو جنگی مہارت رکھتے تھے۔ وہ حکمراں بھی تھے جو بلاواسطہ نظم و نسق چلاتے، مملکت کے تمام امور کی نگرانی کرتے، اﷲ کی حدود قائم کرتے اوراجتماعی معاملات مشاورت سے چلاتے تھے۔
یہ قابلِ رشک صورتِ حال صرف دو خلفائے کرام تک قائم رہی۔ فاضل مؤلف نے سید ابوالاعلیٰ مودودی کا ایک اقتباس نقل کیا ہے جس میں تحریر ہے کہ خاتم النبینؐ نے 23سال کی مدت میں تاریخ کا سب سے بڑا کارنامہ سرانجام دیا۔ پھر اللہ نے اُمت کو دو عظیم لیڈر حضرت ابوبکرصدیقؓ اور حضرت عمرفاروقؓ عطا کیے جن کا عمل تمام شعبوں اور سمتوں تک مکمل طور پر پہنچا۔ پھر یہ خلافت حضرت عثمان غنیؓ کو منتقل ہوئی اور وہ اِس نظام پر چند سال قائم رہے جس نظام کو نبی پاکؐ نے قائم کیا تھا، لیکن جبلیت نے اپنا راستہ اسلامی اجتماعی نظام کی طرف پایا اور انہوں نے اِس کا صفایا کر دینے والے حملے کا اپنی جاں کھپا کر راستہ بند کرنے کی انتہائی کوشش کی اور اپنی ساری طاقت خرچ کر دی، مگر اِس کا احاطہ نہ کر سکے۔ پھر اِن کے بعد حضرت علی مرتضیٰؓ نے خلافت سنبھالی اور اپنی ساری محنت اِس فتنے کو روکنے میں خرچ کر دی، مگر وہ رجعی انقلاب کا مقابلہ نہ کر سکے یہاں تک اپنی جاں بھی خرچ کر دی۔ بس اِس کے ساتھ ہی وہ خلافت ِراشدہ جو نبوی طریق پر قائم ہوئی تھی، اپنی انتہا کو پہنچی اور اِس کی جگہ ظلم و زیادتی نے لے لی اور حکمرانی زمانۂ جاہلیت کے اصولوں پر قائم ہو گئی۔ آفتوں پر سب سے بڑی آفت یہ تھی کہ جاہلیت ایسے لوگوں کی نمائندگی کر رہی تھی جنہوں نے اسلام کا لبادہ اوڑھا ہوا تھا اور اِس کے رنگ میں رنگے ہوئے تھے۔
حضرت مفتیٔ اعظم عمان نے بڑی تفصیل سے یہ واضح کیا کہ خلافت ملوکیت میں کس طرح تبدیل ہوئی اور امویوں، عباسیوں اور عثمانیوں نے مسلمانوں پر کیا کیا ظلم ڈھائے، ان کے حقوق اور اُن کی آزادیاں کس بے دردی سے سلب کیں اور حصولِ اقتدار کی خاطر قتل و غارت کا بازار گرم کیے رکھا۔ اللہ کے جن اولوالعزم اور نیک بندوں نے ظلم اور استبداد کی مزاحمت کی، اُن کا انتہائی سفاکی اور پوری قوت سے صفایا کر دیا گیا۔ انہوں نے اپنی چشم کشا کتاب میں ایک ایسی تحریک اور فکر کا بڑی وضاحت کے ساتھ ذکر کیا ہے جو ظلم واستبداد کے خلاف دوسری صدی ہجری کے اوائل میں اُٹھی اور اِس نے اپنے اثرات اسلامی دنیا کے ایک قابلِ ذکر حصے میں چھوڑے ہیں۔ یہ تحریک علامہ طالب الحق کی قیادت میں اُٹھی اوریمن، حضرموت، عمان اور مراکش کے مختلف علاقوں تک پھیلتی چلی گئی۔ اُس وقت اِس تحریک نے حجاز اور شام کے اندر بھی اسلامی فکر بیدار کی تھی جس کا سب سے بڑا مقصد استبداد کے خلاف ڈٹ جانا اور عامۃ المسلمین کے حقوق کے لئے جدوجہد کرنا تھا۔ یہ لوگ میانہ روی‘ انصاف اور عوام کے جمہوری حقوق پر یقین رکھتے تھے۔ مسقط و عمان میں اِسی مکتبۂ فکر کی حکومت قائم ہے اور سلطان کا انتخاب عام شہری کرتے ہیں۔ اِس اصلاحی تحریک کا نام اباضی ہے اور اس کا مسلک سنی اور شیعہ مسالک کا ایک درمیانی راستہ ہے۔
عظیم اسلامی مفکر علامہ الخلیلی نے پوری اسلامی تاریخ کو صحیح تناظر میں دیکھنے کے بعد اُمتِ مسلمہ کو درپیش مسائل کا حل اِن الفاظ میں بیان کیا ہے۔ ’اسلام میں کسی بھی قسم کے شخصی اقتدار کی گنجائش نہیں اور نہ انفرادی اور خاندانی اقتدار کے لئے جگہ ہے جیسا کہ ہم بعض مشرقی قوموں اور کچھ اسلامی ممالک میں دیکھتے ہیں۔ ایسے ہی کسی تنظیمی اثر کی بھی کوئی جگہ نہیں جیسا کہ ہم یورپ، امریکہ اور روس میں دیکھتے ہیں۔ یورپ میں ایک جماعت کی حکمرانی ہے، امریکہ میں سرمایہ داروں کی حکمرانی ہے اور روس میں چند لوگوں کی حکمرانی ہے جنہوں نے باغیوں کو مان لیا اور خود کو یہ سمجھ لیا کہ وہ کثرت میں ہیں۔ یہ مزدوروں اور نظر بند لوگوں کے ساتھ نہایت سخت اور وحشیانہ معاملہ کرتے ہیں جس کی ظلم اور جبر کی تاریخ میں کوئی اور مثال نہیں ملتی۔ بے شک یہ اقتدار اپنی تمام اقسام کے ساتھ ختم ہو جائے گا اور انسانیت اِس پر حکمرانی کرے گی اور ان سے شدید انتقام لے گی۔ اِس میںسوائے اسلام کے اور کسی کا مستقبل نہیں ہو سکتا۔اِن اقتداروں کی مدت طویل ہو جائے اور مطلق العنان بادشاہت چلتی رہے اور ایک مدت تک اِسی سرکشی میں چلتی رہے۔ طرزِ حکمرانی چاہے وہ انفرادی ہو، خاندانی ہو، جماعتی ہو، یا طبقاتی ہو وہ قوم کی زندگی میں خلافِ فطرت ہے۔ بے شک قوم کو پہلی ہی فرصت میں غلامی سے نجات حاصل کرنا ہو گی، کیونکہ نہ تو اسلام میں اِس کی کوئی جگہ ہے اور نہ ایسے معاشرے میں اِس کی کوئی جگہ ہے جس کا عقل و شعور تخیل کو پہنچ چکا ہو اور نہ یہ جاری رہ سکتی ہے۔ پس مسلمانوں، عربوں اور قیادتوں کو اور سربراہوں کے لئے اِسی میں خیر ہے کہ اِس طرزِ حکمرانی سے خود کو خلاصی دلائیں اِس سے پہلے کہ اِس کے ڈوبنے کے ساتھ یہ بھی ڈوب جا ئیں، اپنا تعلق اِس سے توڑ لیں۔
مفتیٔ اعظم عمان کے خیالات نہایت واضح اور انقلاب آفریں ہیں جو اِس کتاب میں جگہ جگہ غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں۔ اہلِ علم اور اہلِ اختیار کو اِس بلند پایہ تصنیف سے پورا پورا فائدہ اُٹھانا اور اپنی زندگیوں میں تبدیلی کے لئے جدوجہد کرنا ہو گی ۔اُن کی گراں مایہ تحقیق کو عرب دنیا میں بڑی قدر و منزلت سے دیکھا جا رہا ہے اور نوجوانوں میں انصاف‘ حریت فکر اور حکمرانوں کے محاسبے کے لئے تحریک پیدا ہو رہی ہے۔ یہ کتاب عربی میں لکھی گئی ہے جسے مفتی صاحب کے روحانی شاگرد جناب امیر حمزہ جو عمان سے فارغ التحصیل ہیں‘ انہوں نے اردو قالب میں ڈھالا ہے اور اہل پاکستان کے لئے فکر و عمل کے مواقع فراہم کیے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے مفتی اعظم عمان کو قلب سلیم اور نور بصیرت عطا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل علم ودانش اُن کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔ پاکستان کے معروف ماہرین قانون جناب اے کے بروہی اور خالد ایم اسحٰق جب کبھی مسقط جاتے تو مفتی صاحب کی خدمت میں ضرور حاضر ہوتے اور گھنٹوں اُن کے اعلیٰ افکار سے فیض یاب ہوتے۔ راقم الحروف کو بھی اُن سے 1996ء میں ملاقات کا شرف حاصل ہوا تھا اور میں نے اُنہیں بہت کھلے ذہن اور وسیع ظرف کا عالم دین اور مفکر پایا تھا۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں