آسیہ بی بی کیس کی سماعت ملتوی

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے توہین رسالت کے الزام میں سزائے موت پانے والی آسیہ بی بی کی سزا کے خلاف آخری اپیل کی سماعت ملتوی کردی۔

سماعت اُس وقت ملتوی کی گئی جب جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ کے رکن جسٹس اقبال حمید الرحمٰن نے اس بناء پر کیس کی سماعت سے معذرت کرلی کہ وہ سلمان تاثیر قتل کیس کی سماعت کرنے والے بینچ کا بھی حصہ تھے۔

بینچ میں کسی دوسرے جج کی تعیناتی کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھا جاچکا ہے۔

تاہم ابھی تک اس بات کا تعین نہیں ہوسکا کہ کیس کی سماعت اب کب ہوگی۔

میں تین رکنی بینچ نے اپیل پر سماعت شروع کی تو جسٹس اقبال حمیدالرحمان نے کیس سننے سے معذرت کرلی،ان کا کہنا تھا کہ بحیثیت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اس کیس سے پہلے بھی منسلک رہہ چکے ہیں لہذا اس کیس سے الگ ہو رہا ہوں، جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ سلمان تاثیر قتل کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ میں کر چکے ہیں ،آئندہ اس کیس کو اس بنچ میں لگایا جائے جہاں جسٹس اقبال حمید الرحمان نہ ہوں ،کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی گئی۔ چیف جسٹس نیا بینچ تشکیل دینے اور سماعت کے لیے تاریخ کا فیصلہ کریں گے، لاہور کی سیشن عدالت نے2010میں آسیہ بی بی کو توہین رسالت کے تحت سزائے موت سنائی تھی،لاہور ہائیکورٹ نے سیشن عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا تھا،22جولائی 2015کو سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل سماعت کے لیے منظور کی تھی،پہلی سماعت میں سپریم کورٹ نے حکام کو ہائیکورٹ کے سزائے موت کے فیصلے پر عملدرآمد روک دیا تھا۔۔۔

آسیہ بی بی کو نومبر 2010 میں توہین رسالت کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی تھی، جبکہ ان کے وکلاء آسیہ کی بے گناہی پر اصرار کررہے تھے اور ان کا موقف تھا کہ الزام لگانے والے آسیہ سے بغض رکھتے تھے۔

آسیہ بی بی پر الزام تھا کہ انہوں نے جون ، 2009 میں ایک خاتون سے جھگڑے کے دوران حضرت محمد صلی اللہ وعلیہ وسلم کی شان میں توہین کی ۔

واقعہ کے مطابق، آسیہ نے کھیتوں میں کام کے دوران ایک گلاس میں پانی پیا جس پر ایک خاتون نےاعتراض کیا کہ غیر مسلم ہونے کی وجہ سے آسیہ پانی کے برتن کو ہاتھ نہیں لگا سکتیں، جس پر دونوں میں جھگڑا ہو گیا ۔

واقعہ کے کچھ دنوں بعد خاتون نے ایک مقامی عالم سے رابطہ کرتے ہوئے ان کے سامنے آسیہ کے خلاف توہین رسالت کے الزامات پیش کیے۔

آسیہ کو نومبر 2010 میں جرم ثابت ہونے پر عدالت نے سزائے موت سنائی گئی تھی۔

پاکستان میں اس جرم کی سزا موت ہے تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں کہتی ہیں کہ اس قانون کو اکثر ذاتی انتقام لینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

اس سے قبل بھی آسیہ بی بی کی سزائے موت کے خلاف متعدد اپیلیں مسترد ہوچکی ہیں اور اگر اب سپریم کورٹ نے بھی ان کی سزا برقرار رکھی اور ان کی سزائے موت پر عمل درآمد کردیا گیا تو پاکستان میں توہین رسالت کے الزام میں دی جانے والی یہ پہلی سزا ہوگی۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں